کیااپنی ساس یا بہو کو ہاتھ لگانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟


*(سوال نمبر:111)*


السؤال:
      کیااپنی ساس یا بہو کو ہاتھ لگانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟
الجواب وباللہ التوفیق:

 اللہ تعالی کا فرمان ہے:
           تم پر تمہاری مائیں اور بیٹیاں اور بہنیں اور پھوپھیاں اور خالائیں اور بھتیجیاں اور بھانجیاں اور وہ مائیں جنہوں نے تم کو دودھ پلایا اور رضاعی بہنیں اور ساسیں حرام کردی گئی ہیں اور جن عورتوں سے تم مباشرت کرچکے ہو ان کی لڑکیاں جنہیں تم پرورش کرتے ہو (وہ بھی حرام ہیں) ہاں اگر ان کے ساتھ تم نے مباشرت نہ کی ہو تو (تو ان کی لڑکیوں کے ساتھ نکاح کرلینے میں) تم پر کچھ گناہ نہیں تمہارے صلبی بیٹوں کی عورتیں بھی اور دو بہنوں کا اکٹھا کرنا بھی (حرام ہے) مگر جو ہوچکا (سو ہوچکا) بیشک خدا بخشنے والا (اور) رحم والا ہے ۔(1)
  
   مندرجہ بالہ آیت اور آگے آنے والی فقہاء اکرام کی عبارتوں سے یہ بات واضح ہوتی ہے بہو یعنی بیٹے کی بیوی اور ساس یعنی بیوی کی ماں ان دونوں کو ہاتھ لگانے سے وضو نہیں ٹوٹتا اس لئے کہ بیوی کی ماں  اور بہومحرم ہوتی ہے

        لاَ نِكَاحُ مَحْرَمٍ، أيْ كَبِنْتِهِ وأُمِّهِ وزوجَةِ ابْنِهِ أو أبيهِ فإنهُ لا يُقَرُّ عليهِ؛ لأنه لاَ يجوزُ ابتداؤُهُ فاندفعَ عندَ الإسلامِ وكذا لو نكحَ مطلَّقَتَهُ ثلاثاً قبلَ التحليلِ.(2)

وتحرم زوجة من ولدت أو ولدك من نسب أو رضاع وأم زوجتك منهما وكذا بناتها إن دخلت بها.(٣)

ولو لمس امرأة من محارمه؛ بنسبٍ، أو رضاع، أو صهرته- فقولان:
أصحهما: لا ينتقض وضوؤه؛ (٤)

أسباب الحدث هي أربعة: .......
الثالث: التقاء بشرتي الرجل والمرأة إلا محرما في الأظهر(٥)

(١) سورہ نساء                     ٢٣
(٢) عجالة المحتاج         ١٢٦٧/٣
(٣) منہاج الطالبین           ٤٤٧/١
(٤)التهذيب                     ٣٠٣/١
(٥) منہاج الطالبین        ١ /٨٥-٨٦

🖌 *اجابہ*:مفتی سیف الدین مدراسی۔ مفتی حسنین کھوت۔مولوی ہلال ہرزک
------------------------------------
*منجانب بحث و نظر فقہ شافعی کوکن*   
 زیر نگرانی 
*
مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی* 
          مرتب 
*
مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
ٹیلیگرام پر جائن کریں
https://t.me/bahsonazarfiqhashafaikokan

Comments

Popular posts from this blog

اگر کسی شخص کی فجر سے پہلے کی سنت نماز چھوٹ جائے تو اسے کب پڑھنا چاہئے؟

حج یا عمرہ کرنے والا صرف بال کٹائے حلق نہ کرائے تو کیا رکن ادا ہوگا؟

لیکوریا سے خارج ہونے والے سفید مادہ سے وضو ٹوٹتا ہے کیا؟