وارث کے لئے وصیت کا مسئلہ


*(سوال نمبر:118)*
السؤال:
فاطمہ نے ۲۰۱۳ میں بحالت تندرستی وصحت ایک وصیت نامہ (bond paper) پر بنوایا جس میں اس نے یہ وصیت کی کہ(میرے مرنے کے بعد میری ملکیت میں جو ۸ گنٹہ زمین ہے وہ صرف میرے  شوہر عثمان کے نام ہوگی لیکن اسنے اپنی حیات میں وہ زمیں شوہر کے نام نہیں کی بلکہ خود کہ نام پر ہی رکھی ہے اور اس  وقت بھی  وہ فاطمہ کے نام پر ہی ہے اور ۲۰۱۸ میں  فاطمہ کا انتقال ہوگیا ہے اب فاطمہ کی وصیت کے  مطابق اس  زمین پر صرف فاطمہ کے شوہر کا ہی حق ہوگا یا فاطمہ کے  اولاد  کو بھی اس زمین میں سے حصہ ملے گا؟
*جواب*
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا وارث کے لئے وصیت کرنا جائز نہیں ہےالبتہ دیگر ورثہ اگر موصی لہ(جس کے حق میں وصیت کئ گئ)اس سے رضامندی ظاہر کرے. چنانچہ شوہر بیوی کے مال کا وارث بنتا ہے لہذا عثمان کے حق میں اس وقت تک وصیت نافذ نہیں ہوگی جب تک کہ  فاطمہ کی اولاد رضامندی ظاہر کرے.
امام دارقطنی  رحمہ اللہ نقل کرتے ہیں:
عن ابن عباس قال قال رسول اللہ علیہ وسلم لایجوز لوارث وصیۃ الا اں یشاء الورثۃ(1)
امام ماوردی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
والوارث لا وصية له الا ان يجيز ذلك الورثة(2)
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
فلما  کان  الاقربون ورثة  وغير ورثة ابطلنا الوصية للورثة من الاقربين....واجزنا الوصية للاقربين ولغير الورثة(3)
(1)سنن دار قطنی:4259
(2)الحاوی الکبیر:277/4
(3)كتاب الام:188/4
(4)المھذب:342/2
(5)الوسیط:412/4
*اجابہ*:مفتی نعمان حسینی ۔مولوی سعودمجاورندوی
------------------------------------
*منجانب بحث و نظر فقہ شافعی کوکن*   
 زیر نگرانی 
*
مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی* 
          مرتب 
*
مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
ٹیلیگرام پر جائن کریں
https://t.me/bahsonazarfiqhashafaikokan

Comments

Popular posts from this blog

اگر کسی شخص کی فجر سے پہلے کی سنت نماز چھوٹ جائے تو اسے کب پڑھنا چاہئے؟

حج یا عمرہ کرنے والا صرف بال کٹائے حلق نہ کرائے تو کیا رکن ادا ہوگا؟

لیکوریا سے خارج ہونے والے سفید مادہ سے وضو ٹوٹتا ہے کیا؟