کیا نماز میں چهینکنے کے بعد الحمد للہ اور اس کےجواب میں یرحمک اللہ کہنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے؟


  *(سوال نمبر:61)*
 سوال:
کیا نماز میں چهینکنے کے بعد الحمد للہ اور اس کےجواب میں یرحمک اللہ کہنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے؟

جواب: مسلم شریف اور طبرانی کی روایات کو سامنے رکھتے ہوئے فقہاء کرام نے استدلال کیا ہے کہ اگر کوئی نماز میں چھینک آنے پر الحمدللہ کہے تو اس سے نماز باطل نہیں ہوگی. لیکن جواب میں یرحمک اللہ کہنا درست نہیں ہے.اس لیے کہ بات کرنے سے نماز ٹوٹ ہوجاتی ہے چوں کہ نماز میں چهینک کا جواب یرحمک اللہ کہنا سامنے والے سے بات کرنا کی طرح ہے اورچھیکنے والے کے لئے الحمدللہ آہستہ آوازمیں  کہناسنت ہے۔ اوراس کے جواب میں يرحمه اللہ کہناجائزہے ۔واضح رہے سورہ فاتحہ کے دوران الحمدللّٰہ اور اسکے جواب میں یرحمہ اللہ نہیں کہنا چاہیے ورنہ سورہ فاتحہ دوبارہ پڑھنا لازم ہوگا.

(مسلم :537) (طبرانی :4532)

 ﻭﺃﻣﺎ اﻟﻌﺎﻃﺲ، ﻓﻴﺴﻦ ﻟﻪ ﺃﻥ ﻳﻘﻮﻝ: اﻟﺤﻤﺪ ﻟﻠﻪ، ﻭﺇﻥ ﻛﺎﻥ ﻓﻲ ﺻﻼﺓ ﻗﺎﻟﻪ (روضة الطالبين 10/237)

 ﺃﻱ ﻭﻳﺴﻦ ﻟﻤﻦ ﻋﻄﺲ ﻓﻲ اﻟﺼﻼﺓ ﺃﻥ ﻳﺣﻤﺪ اﻟﻠﻪ ﺗﻌﺎﻟﻰ ﻭﻳﺴﻤﻊ ﻧﻔﺴﻪ. (اعانة الطالبين 1/256)
 ﻭﺇﻥ ﺷﻤﺖ اﻟﻤﺼﻠﻲ ﻋﺎﻃﺴﺎ، ﺑﺄﻥ ﻗﺎﻝ ﻟﻪ: ﻳﺮﺣﻤﻚ اﻟﻠﻪ، ﺃﻭ: ﺭﺣﻤﻚ اﻟﻠﻪ، ﻭﻫﻮ ﻋﺎﻟﻢ ﺑﺘﺤﺮﻳﻤﻪ. . ﺑﻄﻠﺖ ﺻﻼﺗﻪ؛ ﻷﻥ اﻟﺼﺤﺎﺑﺔ ﺃﻧﻜﺮﺕ ﻋﻠﻰ ﻣﻌﺎﻭﻳﺔ ﺑﻦ اﻟﺤﻜﻢ ﺗﺸﻤﻴﺖ اﻟﻌﺎﻃﺲ ﻓﻲ اﻟﺼﻼﺓ (البيان2/212)
 ﺃﻭ ﺳﻠﻢ ﻋﻠﻴﻪ ﺇﻧﺴﺎﻥ ﻓﺮﺩ ﻋﻠﻴﻪ اﻟﺴﻼﻡ ﺑﻠﻔﻆ اﻟﺨﻄﺎﺏ ﻓﻘﺎﻝ ﻭﻋﻠﻴﻚ اﻟﺴﻼﻡ ﺃﻭ ﻗﺎﻝ ﻟﻌﺎﻃﺲ ﺭﺣﻤﻚ اﻟﻠﻪ ﺃﻭ ﻳﺮﺣﻤﻚ اﻟﻠﻪ ﺑﻄﻠﺖ ﺻﻼﺗﻪ (المجموع 4/84)
 ﻟﻜﻦ ﺇﺫا ﻭﻗﻊ ﺫﻟﻚ ﻓﻲ اﻟﻔﺎﺗﺤﺔ ﻗﻄﻊ اﻟﻤﻮاﻻﺓ (اعانة الطالبين 1/256 )

*اجابہ*: مفتی اطھر حدادی ، مفتی مزمل دیوڑے۔
------------------------------------
*منجانب بحث و نظر فقہ شافعی کوکن*   
 زیر نگرانی 
*
مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی* 
          مرتب 
*
مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
ٹیلیگرام پر جائن کریں
https://t.me/bahsonazarfiqhashafaikokan


Comments

Popular posts from this blog

اگر کسی شخص کی فجر سے پہلے کی سنت نماز چھوٹ جائے تو اسے کب پڑھنا چاہئے؟

حج یا عمرہ کرنے والا صرف بال کٹائے حلق نہ کرائے تو کیا رکن ادا ہوگا؟

لیکوریا سے خارج ہونے والے سفید مادہ سے وضو ٹوٹتا ہے کیا؟