دوران حمل اگر کسی عورت کاشوہر انتقال ہوجائے اوربیوی عدت کے ایام مکمل کرکے میکے چلی جائے توپیدا ہونے والےبچہ کا خرچہ کس کے ذمہ ہو گا؟
*(سوال نمبر:83)*
دوران حمل
اگر کسی عورت کاشوہر انتقال ہوجائے اوربیوی عدت کے ایام مکمل کرکے میکے چلی جائے توپیدا ہونے والےبچہ کا خرچہ کس کے ذمہ ہو گا؟
*جواب*
اولاد کے خرچے کا ذمہ باپ پر ہوتا ہے اگر باپ انتقال ہو گیا یا تنگ دست
ہو گیا تو اولاد کےخرچے کا ذمہ دادا یعنی باپ کے باپ پر ہوتاہے اگر وہ بھی انتقال ہوگیا
یا تنگ دست ہوگیا تو خرچہ کا ذمہ پردادا یعنی باپ کے باپ کے باپ پر ہو گا ایساہی سلسلہ
اوپر تک چلےگا اگر معاملہ ایسا ہو کہ بچےکی باپ کی طرف سے اوپر تک کوئی بھی موجود نہیں
یا موجود تو ہے لیکن سب کے سب تنگ دست ہے تو بچہ کا خرچہ ماں پر ہو گا اگر ماں بھی
تنگ دست ہے لیکن نانا یعنی ماں کے باپ ہے تو
خرچہ نانا پر ہو گا خلاصہ یہ ہے کہ بچہ کا نفقہ ہر اس شخص پر ہو گا جس پر باپ یا ماں
کا اطلاق ہو چاہے وہ شخص باپ کی طرف سے ہو یا ماں کے طرف سے ہو۔اگرمذکورہ اشخاص میں
سے کوئی نہ ہو تو بچے کا نفقہ عصبات اور ذوی
الارحام پر ہو گا جیسے ماموں خالہ چچا پھوپھی
وغیرہ وغیرہ
أحدها. وهو مذهب الشافعي أنها تجب علي الجد أبي الأب ثم آبائه
وإن علون دون الأم سواء مات الأب أو أعسر ثم تنقل بعدهم إلي الأم (1)
فإن لم يكن هناك أم وهناك أبو أم أو أم أم وجبت عليه نفقة
ولد الولد وإن سفل، فتجب نفقة الولد على من يقع عليه اسم الاب أو الام حقيقة أو مجازا،
سواء كان من قبل الاب أو الام، ويشترك في وجوبها العصبات وذووا الارحام، لانها تتعلق
بالقرابة من جهة الولادة، فاستوى العصبات وذوو الارحام، لانها تتعلق بالقرابة من جهة
الولادة، فاستوى للعصبات وذوو الارحام من جهة الوالدين(2)
(1) الحاوي الكبير 11/ 479
(2)البيان
11/ 214
★المجموع 19/
400
★الفتاوي
الكبري الفقهية 4/ 212
🖌 *اجابہ*: مفتی عرفان کولپیکر۔مولوی زیدمنی پور (کنڈلور)
------------------------------------
*منجانب بحث و نظر فقہ شافعی کوکن*
زیر نگرانی
*مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی*
*مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی*
مرتب
*مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
*مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
ٹیلیگرام پر جائن کریں
https://t.me/bahsonazarfiqhashafaikokan
Comments
Post a Comment