کیا جمعہ کے خطبہ کا ترجمہ پڑھنے سے جمعہ ادا ہوگی؟


*(سوال: 17)*
سؤال : 
  اگر کسی گاؤں امامت کے لئے کوئی امام نہیں ہو اور گاؤں کا ایک عام آدمی بغیر داڑھی والا جو جہاز پر کام کرتا ہے جو عربی سے نابلد ہے وہ اگر خطبہ کا ترجمہ پڑھ کر جمعہ پڑھائے تو جمعہ ہوگی یا نہیں یا اس صورت میں ان تمام گاؤں والوں کے لئے ظہر کی نماز ادا کرنا ہوگی
*جواب*        
جمعہ کے خطبہ میں ارکان کا عربی زبان میں ہونا واجب ہے لہذا اگر کسی بستی میں عربی جاننے والا ایک بھی نہ ہو تو ان میں سے کسی ایک کا خطبہ کے ارکان کو عربی میں سیکھنا واجب ہے اور سیکھنا ممکن ہونے کے باوجود کوئی نہ سکھے تو تمام لوگ گنہگار ہو جائے گے اور ان کو ظہر کی نماز ادا کرنی ہوگی اور اگر خطبہ کے ارکان کو عربی میں سیکھنا ممکن نہ ہو تو امام خطبہ کے ارکان کا ترجمہ کریگا اور ارکان میں سے قرآن کی آیت کاترجمہ نہیں کرے گابلکہ اس کے بدلے کوئی اور ذکر ادا کریگا اور ایسی صورت میں تمام لوگ امام کے ساتھ جمعہ کی نماز ادا کریگے-
  
   *واعلم انه إذا اجتمع قوم فی بلد ولم یکن فيه عربی وجب عليهم تعلم ارکان الخطبتین بالعربية ویکفی فی ذلك واحد منهم فإن لم یتعلم أحد منهم اثموا كلهم ولا جمعة لهم ویصلون الظهر هذا كله مع امکان التعلم فإن لم یمکن ترجم واحد منهم عن غیر الایة من الأركان أما هي فلا یترجم عنها بل یاتی بدلها بذكر ثم دعاء ثم یقف قدر هذا*(١)
(١ ) فتح العلام ٥٣/٣
🖌 *اجابہ* مولوی خالدخان.مولوی اسماعیل تملناڈ
------------------------------------
*منجانب بحث و نظر فقہ شافعی کوکن*   
 زیر نگرانی 
*
مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی* 
          مرتب 
*
مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
ٹیلیگرام پر جائن کریں
https://t.me/bahsonazarfiqhashafaikokan


Comments

Popular posts from this blog

اگر کسی شخص کی فجر سے پہلے کی سنت نماز چھوٹ جائے تو اسے کب پڑھنا چاہئے؟

حج یا عمرہ کرنے والا صرف بال کٹائے حلق نہ کرائے تو کیا رکن ادا ہوگا؟

لیکوریا سے خارج ہونے والے سفید مادہ سے وضو ٹوٹتا ہے کیا؟