اگر عورت جمعہ ادا کرلے تو کیا ظہر اس سے ساقط ہوجائے گی؟
*(سوال نمبر:76)*
سوال:
عورت پر جمعہ فرض نہیں ہے، لیکن اگر وہ اداکرے تو ادا ہو
جائیگی، لیکن کیا ظہر اس سے ساقط ہو جائیگی، اس ک لئے کہ جمعہ تو اس پر فرض نہیں تھی، اور ظہر اس پر فرض ہے؟
*جواب*
جن لوگوں پر جمعہ کی نماز فرض نہیں ہے مثلا عورت'بچہ'غلام'مسافر
وغیرہ اگر وہ جمعہ میں حاضر ہوکر نمازجمعہ ادا کرے تو ان کا جمعہ درست ہوگا اور ظہر
کی نماز ساقط ہوجائے گی.اس لئے کہ جمعہ میں رخصت عذر کی بنا پر تھی اور معذور اگر اپنے آپ کو مکلف بنائے تو اس کا عمل درست ہوتا ہے جیسا کہ مریض جو قیام کی طاقت نہیں رکھتا لیکن باوجود اس
کے وہ کھڑا ہوکر نماز پڑھے تو اس کی نماز درست ہوگی-
ومن لاجمعة عليه كالمرأة والعبد والمسافر اذا حضروا الجمعة
وصلوها سقط عنهم فرض الظهر لان الجمعة انما سقطت عنهم لعذرفاذا حملوا علي انفسهم وصلوا
الجمعة أجزأتهم كالمريض اذا صلي من قيام. وان صلوا الظهر اجزأتهم لانها فرضهم.
البيان في المذهب :553/2
المجموع:415/4
مغني المحتاج:537/1
فتح الوهاب:9/2
*اجابہ*:
مفتی عبدالرحیم کیرلوی۔مفتی نظام ساٹھویلکر۔مولوی سعود مجاور
------------------------------------
*منجانب بحث و نظر فقہ شافعی کوکن*
زیر نگرانی
*مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی*
*مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی*
مرتب
*مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
*مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
ٹیلیگرام پر جائن کریں
https://t.me/bahsonazarfiqhashafaikokan
Comments
Post a Comment