اقامت مائیک پر دینے کا شرعی حکم
*( سوال:١٤)*
سوال :
جس طرح اذان مائيك پر دى جاتى
ہے اسى طرح اقامت
مائيك پر دينے کا کيا حكم هے، جبکہ عام طور پر اقامت ان
لوگوں كيلئے دی جاتی ہے جو مسجد
ميں هوتے ہیں اور جو مصالح
اذان ميں ہیں وه اقامت میں نہیں ہیں ؟
*جواب*
جس طرح
اذان مائيك پر دی جاتی
ھے اسی طرح مائيك
پر اقامت نہ دينا بہتر ہے .اسلئے کہ
اذان حاضرين وغائبين دونوں كيلئے
دی جاتی ہے اسلئے اس میں آواز بلند کرنا مطلوب
ہے.اوراس مقصدکے لیے مائيك استعمال ہوتاہے.
بخلاف اقامت كہ اقامت صرف
حاضرين مسجد کیلئے دی جاتی ہے جس میں اذان
کی طرح آوازکی بلندی مقصودنہیں ہے. البتہ اگر مسجد بڑی ہواوربغیرمائیک کے آوازتمام حاضرین تک
نہ پہنچتی ہویاكسي بستى میں عرف
وعادت یہ ہو كہ لوگ اقامت سننے کے بعد نماز کو آتے ہوں تو ايسى
صورت ميى مائيك پر اقامت
دينا درست ہوگا۔
قال علامه العمرانى
رح
واما في الاقامة :
فلايرفع صوته كما يرفع في الاذان لانها للحاضرين (١)
قال امام
النووي رح
والمستحب ان يكون
رفع الصوت في الاقامة دون رفع
الصوت في الاذان لان الاقامة للحاضرين(٢)
(١) البيان ٧٧/٢
(٢) المجموع ١١٩/٣
🖌 *اجابہ: مولوی الیاس جلگاونکر
------------------------------------
*منجانب بحث و نظر فقہ شافعی کوکن*
زیر نگرانی
*مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی*
*مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی*
مرتب
*مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
*مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
ٹیلیگرام پر جائن کریں
https://t.me/bahsonazarfiqhashafaikokan
Comments
Post a Comment