بیرون ملک والے اپنی صدقہ فطر کہاں نکالیں گے


(سوال نمبر:46)
 سوال:
جو لوگ بیرون ملک یا بیرون شہر برسر روزگار مقیم ہیں وہ اپنا صدقہ فطر وطن اصلی میں نکالیں گے یا اقامت کی جگہ پر نکالنا ضروری ہے؟
*جواب*
جو شخص رمضان کے آخری دن کے غروب کے وقت جہاں مقیم ہے اس کے لئے اپنا صدقہ فطر نکالنےکے لئے اسی جگہ کا اعتبار ہوتا ہے. لہذا جو لوگ برسر روزگار بیرون ملک یا بیرون شہر مقیم ہیں وہ اپنا صدقہ فطر اسی جگہ پر ادا کریں گے. البتہ اگر اس جگہ پر صدقہ فطر لینے والے موجود نہ ہوں تو پھر کسی قریبی دوسری جگہ یا اپنے وطن اصلی میں منتقل کرسکتے ہیں۔

  "ﺃﻣﺎ ﺯﻛﺎﺓ اﻟﻔﻄﺮ ﻓﻤﺤﻞ اﻟﻮﺟﻮﺏ ﻫﻮ اﻟﺬﻱ ﻏﺮﺑﺖ ﺷﻤﺲ ﺁﺧﺮ ﻳﻮﻡ ﻣﻦ ﺭﻣﻀﺎﻥ ﻭاﻟﺸﺨﺺ ﻓﻴﻪ ﻭاﻟﻤﺮاﺩ بالمحل اﻵﺧﺮ اﻟﺬﻱ ﻳﺤﺮﻡ ﻧﻘﻞ اﻟﺰﻛﺎﺓ ﺇﻟﻴﻪ اﻟﻤﺤﻞ اﻟﺬﻱ ﺑﺎﻟﻮﺻﻮﻝ اﻟﻴﻪ ﻳﺠﻮﺯ اﻟﻘﺼﺮ ﻟﻠﻤﺴﺎﻓﺮ"
(نهاية الزين: 182/1)

ﻗﺎﻝ ﺃﺻﺤﺎﺑﻨﺎ ﺇﺫا ﻛﺎﻥ ﻓﻲ ﻭﻗﺖ ﻭﺟﻮﺏ ﺯﻛﺎﺓ اﻟﻔﻄﺮ ﻓﻲ ﺑﻠﺪ ﻭﻣﺎﻟﻪ ﻓﻴﻪ ﻭﺟﺐ ﺻﺮﻓﻬﺎ ﻓﻴﻪ ﻓﺈﻥ ﻧﻘﻠﻬﺎ ﻋﻨﻪ ﻛﺎﻥ ﻛﻨﻘﻞ ﺑﺎﻗﻲ اﻟﺰﻛﻮاﺕ ﻓﻔﻴﻪ اﻟﺨﻼﻑ ﻭاﻟﺘﻔﺼﻴﻞ اﻟﺴﺎﺑﻖ ﻭاﻥ ﻛﺎﻥ ﻓﻲ ﺑﻠﺪ ﻭﻣﺎﻟﻪ ﻓﻲ ﺁﺧﺮ ﻓﺄﻳﻬﻤﺎ ﻳﻌﺘﺒﺮ ﻓﻴﻪ ﻭﺟﻬﺎﻥ
(ﺃﺣﺪﻫﻤﺎ)
ﺑﻠﺪ اﻟﻤﺎﻝ ﻛﺰﻛﺎﺓ اﻟﻤﺎﻝ (ﻭﺃﺻﺤﻬﻤﺎ) ﺑﻠﺪ ﺭﺏ اﻟﻤﺎﻝ...
(المجموع 225/6)

ﻭﻟﻮ ﻛﺎﻥ ﻟﻪ ﻣﻦ ﺗﻠﺰﻣﻪ ﻓﻄﺮﺗﻪ ﻭﻫﻮ ﺑﺒﻠﺪ، ﻓﺎﻟﻈﺎﻫﺮ ﺃﻥ اﻻﻋﺘﺒﺎﺭ ﺑﺒﻠﺪ اﻟﻤﺆﺩﻯ ﻋﻨﻪ...
(روضة الطالبين 334/2)
تجب زكاة الفطر في الموضع الذي كان الشخص فيه عند الغروب، فيصرفها لمن كان هناك من المستحقين، وإلا نقلها إلى أقرب موضع إلى ذلك المكان
(غاية تلخيص المراد :٤٥٩)
*اجابہ*: مفتی اطہر حدادی۔مفتی عبدالرحیم کیرلوی
 ------------------------------------
*منجانب بحث و نظر فقہ شافعی کوکن*   
 زیر نگرانی 
*
مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی* (سوال نمبر:46)

 سوال:
جو لوگ بیرون ملک یا بیرون شہر برسر روزگار مقیم ہیں وہ اپنا صدقہ فطر وطن اصلی میں نکالیں گے یا اقامت کی جگہ پر نکالنا ضروری ہے؟
*جواب*
جو شخص رمضان کے آخری دن کے غروب کے وقت جہاں مقیم ہے اس کے لئے اپنا صدقہ فطر نکالنےکے لئے اسی جگہ کا اعتبار ہوتا ہے. لہذا جو لوگ برسر روزگار بیرون ملک یا بیرون شہر مقیم ہیں وہ اپنا صدقہ فطر اسی جگہ پر ادا کریں گے. البتہ اگر اس جگہ پر صدقہ فطر لینے والے موجود نہ ہوں تو پھر کسی قریبی دوسری جگہ یا اپنے وطن اصلی میں منتقل کرسکتے ہیں۔
  "ﺃﻣﺎ ﺯﻛﺎﺓ اﻟﻔﻄﺮ ﻓﻤﺤﻞ اﻟﻮﺟﻮﺏ ﻫﻮ اﻟﺬﻱ ﻏﺮﺑﺖ ﺷﻤﺲ ﺁﺧﺮ ﻳﻮﻡ ﻣﻦ ﺭﻣﻀﺎﻥ ﻭاﻟﺸﺨﺺ ﻓﻴﻪ ﻭاﻟﻤﺮاﺩ بالمحل اﻵﺧﺮ اﻟﺬﻱ ﻳﺤﺮﻡ ﻧﻘﻞ اﻟﺰﻛﺎﺓ ﺇﻟﻴﻪ اﻟﻤﺤﻞ اﻟﺬﻱ ﺑﺎﻟﻮﺻﻮﻝ اﻟﻴﻪ ﻳﺠﻮﺯ اﻟﻘﺼﺮ ﻟﻠﻤﺴﺎﻓﺮ"
(نهاية الزين: 182/1)

ﻗﺎﻝ ﺃﺻﺤﺎﺑﻨﺎ ﺇﺫا ﻛﺎﻥ ﻓﻲ ﻭﻗﺖ ﻭﺟﻮﺏ ﺯﻛﺎﺓ اﻟﻔﻄﺮ ﻓﻲ ﺑﻠﺪ ﻭﻣﺎﻟﻪ ﻓﻴﻪ ﻭﺟﺐ ﺻﺮﻓﻬﺎ ﻓﻴﻪ ﻓﺈﻥ ﻧﻘﻠﻬﺎ ﻋﻨﻪ ﻛﺎﻥ ﻛﻨﻘﻞ ﺑﺎﻗﻲ اﻟﺰﻛﻮاﺕ ﻓﻔﻴﻪ اﻟﺨﻼﻑ ﻭاﻟﺘﻔﺼﻴﻞ اﻟﺴﺎﺑﻖ ﻭاﻥ ﻛﺎﻥ ﻓﻲ ﺑﻠﺪ ﻭﻣﺎﻟﻪ ﻓﻲ ﺁﺧﺮ ﻓﺄﻳﻬﻤﺎ ﻳﻌﺘﺒﺮ ﻓﻴﻪ ﻭﺟﻬﺎﻥ
(ﺃﺣﺪﻫﻤﺎ)
ﺑﻠﺪ اﻟﻤﺎﻝ ﻛﺰﻛﺎﺓ اﻟﻤﺎﻝ (ﻭﺃﺻﺤﻬﻤﺎ) ﺑﻠﺪ ﺭﺏ اﻟﻤﺎﻝ...
(المجموع 225/6)

ﻭﻟﻮ ﻛﺎﻥ ﻟﻪ ﻣﻦ ﺗﻠﺰﻣﻪ ﻓﻄﺮﺗﻪ ﻭﻫﻮ ﺑﺒﻠﺪ، ﻓﺎﻟﻈﺎﻫﺮ ﺃﻥ اﻻﻋﺘﺒﺎﺭ ﺑﺒﻠﺪ اﻟﻤﺆﺩﻯ ﻋﻨﻪ...
(روضة الطالبين 334/2)
تجب زكاة الفطر في الموضع الذي كان الشخص فيه عند الغروب، فيصرفها لمن كان هناك من المستحقين، وإلا نقلها إلى أقرب موضع إلى ذلك المكان
(غاية تلخيص المراد :٤٥٩)
*اجابہ*: مفتی اطہر حدادی۔مفتی عبدالرحیم کیرلوی
 ------------------------------------
*منجانب بحث و نظر فقہ شافعی کوکن*   
 زیر نگرانی 
*
مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی* 
          مرتب 
*
مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
ٹیلیگرام پر جائن کریں
https://t.me/bahsonazarfiqhashafaikokan


          مرتب 
*
مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
ٹیلیگرام پر جائن کریں
https://t.me/bahsonazarfiqhashafaikokan


Comments

  1. سالام عليكم، سوال یہ یے کہ ؛ میں نے قرض لیا تو اس قرض سے زکات الفطر اور زکات المال دے سکتا ہوں یا نکال سکتا ہوں یا نہیں ؟
    آپ کو بڑا مہربان ہے ، مری سوال دے کیوں کہ میں نے کۓ دفعہ یہاں سے سوال کیا کؤ جواب مجہے نہکں ملا ۔ جزاک اللہ خیرا

    ReplyDelete

Post a Comment

Popular posts from this blog

اگر کسی شخص کی فجر سے پہلے کی سنت نماز چھوٹ جائے تو اسے کب پڑھنا چاہئے؟

حج یا عمرہ کرنے والا صرف بال کٹائے حلق نہ کرائے تو کیا رکن ادا ہوگا؟

لیکوریا سے خارج ہونے والے سفید مادہ سے وضو ٹوٹتا ہے کیا؟