جنابت کے بعد حیض شروع ہو جائے تو غسل کا حکم


*(سوال نمبر:20)*
سوال:
اگر کسی عورت کو جماع کے فورا بعد حیض شروع ہوجائے تو ایسی صورت میں عورت کون سا غسل کرے گی۔ نیز اسے فی الفور جنابت کا غسل کرنا ضروری ہے یا نہیں؟
*جواب*:
اگر کسی عورت کو جماع کے فورا بعد حیض شروع ہوجائے تو ایسی صورت میں اس عورت پر حالت حیض میں کوئی غسل واجب نہیں ہے البتہ حیض کے انقطاع کے بعد دونوں کی طرف سے کوئی ایک غسل کرے تو کافی ہوگا ۔
     " لو أصابتها جنابة ثم حاضت قبل الاغتسال فلا غسل عليها وهى حائض، فإذا انقطع أجزاء ها غسل واحد لهما
(بحر المذهب ١/١٩٩)
🖌 *اجابہ*: مولوی اسماعیل مہالدار
       ------------------------------------
*منجانب بحث و نظر فقہ شافعی کوکن*   
 زیر نگرانی 
*
مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی* 
          مرتب 
*
مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
ٹیلیگرام پر جائن کریں
https://t.me/bahsonazarfiqhashafaikokan


Comments

Popular posts from this blog

اگر کسی شخص کی فجر سے پہلے کی سنت نماز چھوٹ جائے تو اسے کب پڑھنا چاہئے؟

حج یا عمرہ کرنے والا صرف بال کٹائے حلق نہ کرائے تو کیا رکن ادا ہوگا؟

لیکوریا سے خارج ہونے والے سفید مادہ سے وضو ٹوٹتا ہے کیا؟