عورت کو اپنے بچے کو دودھ پلانے کی آخری مدت کتنی ہے اور اس کے بعد دودھ پلانا کیساہے؟


*(سوال نمبر:82)*
سوال:
  عورت کو اپنے بچے کو دودھ پلانے کی آخری مدت کتنی ہے اور اس کے بعد دودھ پلانا کیساہے؟
*جواب*
 رضاعت کے ثبوت کے لئے بچے کو دودھ پلانے آخری مدت دوسال تک ہے قرآن میں اللہ فر ما تے ہیں مائیں اپنے بچوں کو دودھ پلائیں پورے دوسال (یہ مدت)اسکےلئے ہے جو رضاعت کی تکمیل كرنا  چاہے (1)اگر ماں دوسال کے بعد اپنے بچے کو دودھ پلانا چاہے  تو پلا سکتی ہے اس لئے کہ وہ بچوں کی مصلحت اورفائدہ کے لئے ہے لہذا ماں اپنے بچے کو جب تک دودھ پلا سکتی ہے پلائے اسلئےکہ ماں کا دودھ بچے کے حق میں بہترین غذاہے-

 فذكر أن تمام الرضاع في الحولين فعلم أنه لم يرد أنه لايجوز أكثر منه لأن ذالك يجوز(2)

فإن استمر رضاع بعد الحولين لضعف الطفل فلا مانع منه للحاجة ولكن لايترتب عليه احكامه من التحريم (3)

وقوله تعالي (حولين كاملين لمن أراد أن يتم الرضاعة) يدل علي أن هذا تمام الرضاعة ومابعد ذالك فهو غذاء من الأغذية(4)
(1)سورة البقرة   233
(2)البيان  11/  122
(3)الفقه الإسلامي وأدلته  7/  710
(4)مجموع الفتاوي   34/  34
فتاوي اللجنة الدائمة  21/  60
🖌 *اجابہ*: مولوی قاسم منی پوری (کنڈلور)
------------------------------------
*منجانب بحث و نظر فقہ شافعی کوکن*   
 زیر نگرانی 
*
مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی* 
          مرتب 
*
مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
ٹیلیگرام پر جائن کریں
https://t.me/bahsonazarfiqhashafaikokan



Comments

Popular posts from this blog

اگر کسی شخص کی فجر سے پہلے کی سنت نماز چھوٹ جائے تو اسے کب پڑھنا چاہئے؟

حج یا عمرہ کرنے والا صرف بال کٹائے حلق نہ کرائے تو کیا رکن ادا ہوگا؟

لیکوریا سے خارج ہونے والے سفید مادہ سے وضو ٹوٹتا ہے کیا؟