اسقاط حمل کے بعدجوخون آتاہے اس پرنفاس کاحکم ہوگایاحیض کا؟
اسقاط حمل
کے بعدجوخون آتاہے اس پرنفاس کاحکم ہوگایاحیض کا؟
*الجواب :*
اسقاط
حمل کے بعدجوخون آتاہے وہ خون نفاس کے حکم
میں ہوگاچاہے حمل مکمل بچہ کی شکل میں ہو یا گوشت کے لوتھرا ہو لیکن ڈاکٹر کہے کہ یہ
انسانی خلقت کی ابتداء ہے ان تمام صورتوں میں نکلنے والا خون نفاس کاہےجس کی مدت زیادہ
سے زیادہ ساٹھ دن اورعام مدت چالیس دن اور کم سے کم مدت ایک لحظہ ہے
…
سواء ﻓﻲ ﺣﻜﻢ اﻟﻨﻔﺎﺱ، ﻛﺎﻥ اﻟﻮﻟﺪ ﻛﺎﻣﻞ اﻟﺨﻠﻘﺔ ﺃﻭ ﻧﺎﻗﺼﻬﺎ
ﺃﻭ ﻣﻴﺘﺎ ﻭﺃﻟﻘﺖ ﻣﻀﻐﺔ ﺃﻭ ﻋﻠﻘﺔ. ﻭﻗﺎﻝ اﻟﻘﻮاﺑﻞ: ﺇﻧﻪ ﻣﺒﺘﺪﺃ ﺧﻠﻖ ﺁﺩﻣﻲ، ﻓﺎﻟﺪﻡ اﻟﻤﻮﺟﻮﺩ ﺑﻌﺪﻩ
ﻧﻔﺎﺱ.(روضة الطالبين :283/1 ط )
ﻗﺎﻝ ﺃﺻﺤﺎﺑﻨﺎ
ﻻ ﻳﺸﺘﺮﻁ ﻓﻲ ﺛﺒﻮﺕ ﺣﻜﻢ اﻟﻨﻔﺎﺱ ﺃﻥ ﻳﻜﻮﻥ اﻟﻮﻟﺪ ﻛﺎﻣﻞ اﻟﺨﻠﻘﺔ ﻭﻻ ﺣﻴﺎ ﺑﻞ ﻟﻮ ﻭﺿﻌﺖ ﻣﻴﺘﺎ ﺃﻭ ﻟﺤﻤﺎ
ﺗﺼﻮﺭ ﻓﻴﻪ ﺻﻮﺭﺓ ﺁﺩﻣﻲ ﺃﻭ ﻟﻢ ﻳﺘﺼﻮﺭ ﻭﻗﺎﻝ اﻟﻘﻮاﺑﻞ ﺇﻧﻪ ﻟﺤﻢ ﺁﺩﻣﻲ ﺛﺒﺖ ﺣﻜﻢ اﻟﻨﻔﺎﺱ. (المجموع
:415/3 )
🖌 *اجابہ*: مولوی عاقب کوکاٹے
------------------------------------
*منجانب بحث و نظر فقہ شافعی کوکن*
زیر نگرانی
*مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی*
*مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی*
مرتب
*مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
*مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
ٹیلیگرام پر جائن کریں
https://t.me/bahsonazarfiqhashafaikokan
Comments
Post a Comment