اگر کوئی تراویح کے بعد وتر کی نماز پڑھ چکا ہو تو تہجد کے بعد وہ دوبارہ وتر پڑھ سکتاہے؟


*(سوال نمبر:43)*
 سوال:
اگر کوئی تراویح کے بعد وتر کی نماز پڑھ چکا ہو تو تہجد کے بعد وہ دوبارہ وتر پڑھ سکتاہے؟
*جواب*
اگر کوئی تراویح کے بعد ایک مرتبہ وتر پڑھ لے تو اس کے لئے تہجد کے بعد دوبارہ وتر پڑھنا مسنون نہیں ہے اس لئے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک رات میں دو مرتبہ وتر نہیں ہے۔(١)

(١ ) عن قيس بن طلق بن علي، عن أبيه، قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «§لا وتران في ليلة»:
سنن ترمذي:٤٧٠
إذا أوتر ثم أراد أن يصلي نافلة أم غيرها في الليل جاز بلا كراهة ولا يعيد الوتر كما سبق
المجموع :١٦/٤
🖌 *اجابہ*: مفتی مزمل دیوڑے ۔مفتی محمد اسجد ملپا
------------------------------------
*منجانب بحث و نظر فقہ شافعی کوکن*   
 زیر نگرانی 
*
مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی* 
          مرتب 
*
مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
ٹیلیگرام پر جائن کریں
https://t.me/bahsonazarfiqhashafaikokan


Comments

Popular posts from this blog

اگر کسی شخص کی فجر سے پہلے کی سنت نماز چھوٹ جائے تو اسے کب پڑھنا چاہئے؟

حج یا عمرہ کرنے والا صرف بال کٹائے حلق نہ کرائے تو کیا رکن ادا ہوگا؟

لیکوریا سے خارج ہونے والے سفید مادہ سے وضو ٹوٹتا ہے کیا؟