زنا کی وجہ سے حاملہ ہونے والی عورت سے نکاح کرنے کا کیا حکم ہے؟کیا یہ عورت زانی سے نکاح کر سکتی ہے؟


*(سوال نمبر:93)*
  سوال:
زنا کی وجہ سے حاملہ ہونے والی عورت سے نکاح کرنے کا کیا حکم ہے؟کیا یہ عورت زانی سے نکاح کر سکتی ہے؟
*جواب*
زنا کی وجہ سے حاملہ ہونے والی عورت کے ساتھ وضع حمل سے پہلے نکاح کرنا مکروہ ہے.
اگر زانیہ حاملہ نہ ہو تو مطلقا نکاح درست ہوگا خواہ زانی سے ہو یا کسی دوسرے شخص سے.نیز  حالت حمل میں اس سے وطی کرنا جائز ہے البتہ بعض فقہاء نے اس سے منع فرمایا ہے. لہذا نہ کرنا بہتر ہے.

چنانچہ امام عمرانی فرماتے ہیں:
ﻭﺇﺫا ﺯﻧﺖ اﻟﻤﺮﺃﺓ.. ﻟﻢ ﻳﺠﺐ ﻋﻠﻴﻬﺎ اﻟﻌﺪﺓ، ﺳﻮاء ﻛﺎﻧﺖ ﺣﺎﺋﻼ ﺃﻭ ﺣﺎﻣﻞ.
ﻓﺈﻥ ﻛﺎﻧﺖ ﺣﺎﺋﻼ.. ﺟﺎﺯ ﻟﻠﺰاﻧﻲ ﺃﻭ ﻟﻐﻴﺮﻩ ﻋﻘﺪ النکاح ﻋﻠﻴﻬﺎ.. ﻭﺇﻥ ﺣﻤﻠﺖ ﻣﻦ اﻝﺯﻧﺎ.. ﻓﻴﻜﺮﻩ ﻧﻜﺎﺡﻫﺎ ﻗﺒﻞ ﻭﺿﻊ اﻟﺤﻤﻞ، ﻓﺈﻥ ﺗﺰﻭﺟﻬﺎ اﻟﺰاﻧﻲ ﺃﻭ ﻏﻴﺮﻩ ﻗﺒﻞ ﻭﺿﻊ اﻟﺤﻤﻞ.. ﺻﺢ(1)
امام بغوی فرماتے ہیں:
ولکن لا یطؤها ما لم تضع الحمل(2)
شیخ زکریا انصاری فرماتے ہیں:
يجوز نكاح الحامل من الزنا وكذا وطؤها كا لحائل

(1)البيان: 270/9
(2)التہذیب:334/5
3)اسنی المطالب:393/3
(4)المجموع:383/17
*اجابہ*: مفتی احمدخطیب ندوی ۔مولوی سعودندوی مولوی وسیم ندوی
------------------------------------
*منجانب بحث و نظر فقہ شافعی کوکن*   
 زیر نگرانی 
*
مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی* 
          مرتب 
*
مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
ٹیلیگرام پر جائن کریں
https://t.me/bahsonazarfiqhashafaikokan

Comments

Popular posts from this blog

اگر کسی شخص کی فجر سے پہلے کی سنت نماز چھوٹ جائے تو اسے کب پڑھنا چاہئے؟

حج یا عمرہ کرنے والا صرف بال کٹائے حلق نہ کرائے تو کیا رکن ادا ہوگا؟

لیکوریا سے خارج ہونے والے سفید مادہ سے وضو ٹوٹتا ہے کیا؟