زمزم کا پانی پیتے وقت قبلہ کی طرف رخ کرنا
*(سوال نمبر:62)*
سوال:
بعض لوگ زم زم کاپانی پیتے وقت بڑے اہتمام سے قبلہ کی طرف
رخ کرتے ہیں شرعا اس کاکیاحکم ہے؟
*جواب*
حضرت عبدالرحمن بن ابوبکر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص حضرت
ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس آکر بیٹھ گیا تو انھوں نے اس سے پوچھا کہاں سے آئے ہوتواس نے کہاکہ
زمزم پی کرآیاہوں۔توحضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اس سے کہاکہ زمزم پیتے وقت اپنارخ قبلہ کی
طرف کرنااورخوب سیراب ہوکرپینا۔ (مصنف ابن ابی شیبہ:24175)
اس دلیل کی بناء پرفقہاء فرماتے ہیں کہ آب زمزم پینے کے
آداب میں سے ایک ادب یہ ہے کہ آپ زمزم قبلہ رخ ہوکراوربیٹھ کرپیناچاہیے۔لہذاجولوگ اس
کااہتمام کرتے ہیں ان کا عمل شرعادرست ہے۔
ﻭﻳﺴﻦ اﺳﺘﻘﺒﺎﻝ اﻟﻘﺒﻠﺔ ﻋﻨﺪ ﺷﺮﺑﻪ، ﻭﺃﻥ ﻳﺘﻀﻠﻊ ﻣﻨﻪ ﻟﻤﺎ ﺭﻭﻯ
اﻟﺒﻴﻬﻘﻲ ﻣﻦ ﻃﺮﻕ ﺃﻥ اﻟﻨﺒﻲ - ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ - ﻗﺎﻝ: «ﺁﻳﺔ ﻣﺎ ﺑﻴﻨﻨﺎ ﻭﺑﻴﻦ اﻟﻤﻨﺎﻓﻘﻴﻦ
ﺃﻧﻬﻢ ﻻ ﻳﺘﻀﻠﻌﻮﻥ ﻣﻦ ﺯﻣﺰﻡ» (مغني المحتاج
2/282)
ويسن عند إرادة شربه الاستقبال والجلوس وقيامه - صلى
الله عليه وسلم - لبيان الجواز (حاشية الجمل 2/482)
*اجابہ*: مفتی مزمل دیوڑے
------------------------------------
*منجانب بحث و نظر فقہ شافعی کوکن*
زیر نگرانی
*مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی*
*مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی*
مرتب
*مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
*مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
ٹیلیگرام پر جائن کریں
https://t.me/bahsonazarfiqhashafaikokan
Comments
Post a Comment