ایک شخص کوتھجدکے بعدوترپڑھنے کی عادت ہے رمضان المبارک میں وترکب اداکرے گا؟


سوال نمبر:137)*
سوال :
ایک شخص کوتھجدکے بعدوترپڑھنے کی عادت ہے رمضان المبارک میں وترکب اداکرے گا؟
ایک طرف جماعت کی فضیلت دوسری طرف وتر کو تہجد کے بعد پڑھنے کی فضیلت   کس کو اختیار کرنا چاہئے.؟
*جواب* :
رمضان المبارک میں تراویح کے بعد وتر کی نماز  باجماعت پڑھنا مستحب ہے،البتہ اگر کوئی ایسا شخص ہے جسے یقین ہو کے وہ تہجد کے وقت جاگ جائے گا تو ایسے شخص کے لیے وتر کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھنے کے بجائے اول لیل سے تاخیر کر کے تھجد کے بعدپڑھنا  ہے،  اوراگرصبح اٹھنے کاامکان نہ ہوتو وہ عشاء کی نماز کے بعد ہی وتر پڑھ لے گا، اسلئے کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا جس شخص کو خوف ہو کہ وہ رات کے آخری حصے میں نہیں جاگ سکتا تو ایسا شخص اول لیل میں وتر پڑھ لے، اور جو آخر اللیل کی چاہت رکھتا ہے تو وہ وتر کی نماز رات کے آخری حصے میں پڑھے اسلئے کہ اس وقت ملائکہ حاضر ہوتے ہیں اور یہی افضل ہے.  ١

" قَوْله صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ( فَإِذَا خَشِيَ أَحَدكُمْ الصُّبْح صَلَّى رَكْعَة تُوتِرُ لَهُ مَا قَدْ صَلَّى ) ، وَفِي الْحَدِيث الْآخَر ( أَوْتِرُوا قَبْل الصُّبْح ) هَذَا دَلِيل عَلَى أَنَّ السُّنَّة جَعْل الْوِتْر آخِر صَلَاة اللَّيْل , وَعَلَى أَنَّ وَقْته يَخْرُج بِطُلُوعِ الْفَجْر , وَهُوَ الْمَشْهُور مِنْ مَذْهَبنَا , وَبِهِ قَالَ جُمْهُور الْعُلَمَاء , وَقِيلَ : يَمْتَدّ بَعْد الْفَجْر حَتَّى يُصَلِّي الْفَرْضَ٢  

فرع) يسن لمن وثق بيقظته قبل الفجر بنفسه أو غيره أن يؤخر الوتر كله لا التراويح عن أول الليل وإن فاتت الجماعة فيه بالتأخير في رمضان، لخبر الشيخين: اجعلوا آخر صلاتكم بالليل وترا.3

وَوَقْتُهُ) أَيْ الْوِتْرُ (بَيْنَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ) وَلَوْ بَعْدَ غُرُوبِ الشَّمْسِ فِي جَمْعِ التَّقْدِيمِ (وَطُلُوعِ الْفَجْرِ) الصَّادِقِ لِلْخَبَرِ الصَّحِيحِ فِي ذَلِكَ وَقْتُهُ الْمُخْتَارُ إلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ فِي حَقِّ مَنْ لَمْ يُرِدْ تَهَجُّدًا، وَلَمْ يَعْتَدْ الْيَقِظَةَ آخِرَ اللَّيْلِ4

قلت: الأصح بعده أن الجماعة تندب في الوتر عقب التراويح جماعۃ۔5

وقت الوتر: ما بين صلاة العشاء وطلوع الفجر، والأفضل أن يؤخرها إلى آخر صلاة الليل. روى أبو داود (١٤١٨)... وروى البخاري (٩٥٣) ومسلم (٧٤٩)،..........
هذا إن رجا الإنسان أن يقوم من آخر الليل، أما من خاف أن لا يقوم، فليوتر بعد فريضة العشاء وسنتها-6


...................................................
١) صحیح مسلم                        ٧٥٥
٢) شرح مسلم.                        ٣٢/٦
٣) نهاية المحتاج.                  ١٤٤/٢
٤) فتح المعین مع اعانہ:        1/291
* تحفۃ المحتاج                   2/231             
٥) مغنی المحتاج                   ٤٥٥/١
6) الفقه المنهجي.                 ٢١٦/١

*:مفتی عبدالرحیم کیرلوی ۔مولوی سلمان پٹیل*
------------------------------------
*منجانب بحث و نظر فقہ شافعی کوکن*   
 زیر نگرانی 
*
مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی* 
          مرتب 
*
مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
ٹیلیگرام پر جائن کریں
https://t.me/bahsonazarfiqhashafaikokan

Comments

Popular posts from this blog

اگر کسی شخص کی فجر سے پہلے کی سنت نماز چھوٹ جائے تو اسے کب پڑھنا چاہئے؟

حج یا عمرہ کرنے والا صرف بال کٹائے حلق نہ کرائے تو کیا رکن ادا ہوگا؟

لیکوریا سے خارج ہونے والے سفید مادہ سے وضو ٹوٹتا ہے کیا؟