نماز میں سجدہ تلاوت کی نیت کرنا


سوال نمبر:132)*
سوال :
تراویح کی نماز یا اس کے علاوہ فرائض و نوافل میں قراءت کے دوران جو سجدہ تلاوت آتا ہے، کیا اس کے لیے سجدہ تلاوت کی نیت کرنا ضروری ہے؟
*جواب*
تراویح کی نماز یا اس کے علاوہ فرائض و نوافل میں قراءت کے دوران جو سجدہ تلاوت آتا ہے،تو اس سجدہ کے لیے نیت واجب نہیں البتہ دل میں نیت کرنا بہترہے۔اس لئے کہ بعض فقہاء نے نیت کرنے کاتذکرہ کیاہے.

" *ﻭﻻ ﻳﺠﺐ ﻟﻬﺎ ﻧﻴﺔ* ﻛﻤﺎ ﺣﻜﻰ اﺑﻦ اﻟﺮﻓﻌﺔ اﻻﺗﻔﺎﻕ ﻋﻠﻴﻪ، ﻭﻣﺮ ﺗﻮﺟﻴﻬﻪ ﻓﻲ ﺳﺠﻮﺩ اﻟﺴﻬﻮ ﻭﺃﻧﻪ ﻻ ﻳﻨﺎﻓﻲ ﻗﻮﻟﻬﻢ ﻟﻢ ﺗﺸﻤﻠﻬﺎ ﻧﻴﺔ اﻟﺼﻼﺓ"١

وَالْأَوْجَهُ قَوْلُ ابْنِ الرِّفْعَةِ: وَلَا يَجِبُ عَلَى الْمُصَلِّي نِيَّتُهَا اتِّفَاقًا، لِأَنَّ نِيَّةَ الصَّلَاةِ تَنْسَحِبُ عَلَيْهَا بِوَاسِطَةٍ٢

(وَمَنْ سَجَدَ) أَيْ أَرَادَ السُّجُودَ (فِيهَا) أَيْ الصَّلَاةِ (كَبَّرَ لِلْهَوِيِّ) إلَيْهَا (وَلِلرَّفْعِ) مِنْهَا نَدْبًا وَنَوَى سُجُودَ التِّلَاوَةِ حَتْمًا مِنْ غَيْرِ تَلَفُّظٍ وَلَا تَكْبِيرٍ كَمَا مَرَّ؛ لِأَنَّ نِيَّةَ الصَّلَاةِ لَمْ تَشْمَلْهَا،٣

وَمَنْ سَجَدَ فِيهَا) أَيْ فِي الصَّلَاةِ إمَامًا أَوْ مُنْفَرِدًاأَوْ مَأْمُومًا، وَتَجِبُ نِيَّتُهَا عَلَى غَيْرِ الْمَأْمُومِ وَتُنْدَبُ لَهُ.
وَقَالَ الْخَطِيبُ: لَا تَجِبُ لَهَا نِيَّةٌ مُطْلَقًا لِشُمُولِ نِيَّةِ الصَّلَاةِ لَهَا بِوَاسِطَةِ شُمُولِهَا لِلْقِرَاءَةِ وَالنِّيَّةِ بِالْقَلْبِ،٤
........................................
١) تحفة المحتاج:        ٢١٥/٢
٢) مغني المحتاج       ٤٤٥/١
٣) نهاية المحتاج.     ١٠١/٢
٤) حاشيتا قليوبي و عميره.  ٢٣٨/١
* السراج الوهاج.      ٦٢/١
*:مفتي عبدالرحیم کیرلوی۔مفتی ریاض الرحمن ندوی بھٹکلی*
------------------------------------
*منجانب بحث و نظر فقہ شافعی کوکن*   
 زیر نگرانی 
*
مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی* 
          مرتب 
*
مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
ٹیلیگرام پر جائن کریں
https://t.me/bahsonazarfiqhashafaikokan

Comments

Popular posts from this blog

اگر کسی شخص کی فجر سے پہلے کی سنت نماز چھوٹ جائے تو اسے کب پڑھنا چاہئے؟

حج یا عمرہ کرنے والا صرف بال کٹائے حلق نہ کرائے تو کیا رکن ادا ہوگا؟

لیکوریا سے خارج ہونے والے سفید مادہ سے وضو ٹوٹتا ہے کیا؟