اسلام میں کسی کی حوصلہ افزائی کےلئے تالیاں بجانا کیسا ہے؟
*(سوال نمبر:51)*
سوال:
اسلام میں کسی کی حوصلہ افزائی کےلئے تالیاں بجانا کیسا
ہے؟
*جواب*
اسلام میں بغیر کسی حاجت کے
صرف کسی کی حوصلہ افزائی کے لئے تالیاں بجانا مکروہ ہے،اور چوں کہ تالیاں بجانے میں غیروں سے مشابہت ٬عورتوں کے ساتھ
تشابہ بھی پایا جاتا ہے،اور زمانہ جاہلیت کی عادت بھی ہے،لہذا غیروں کی مشابہت میں
لہو و لعب کے قصد اور بے حیائی اور فحاشی کے کاموں کو فروغ دینے کی غرض سے تالیاں بجانا
حرام ہے اس لئے اس سے احتراز کرنا چاہئیے ،اور
کسی ضرورت کے موقع پر مثلا کسی دور کھڑے شخص کو متوجہ کرنے کی غرض سے تالی بجانا مباح
ہے۔الغرض کسی اچھے کام پر حوصلہ افزائی کے
لئے تالی کے بجائے تکبیر وتسبیح کہنا بہتر ہے۔
قال الإمام الشرواني:-
رجح الزرکشی
منهماالتحریم
وهو المعتمد کذا بهامش وینبغی ان محله مالم یحتج الیه کما یقع الان ممن یریدان ینادی
انسانابعیداعنه۔۔۔۔۔۔۔ سئل عن التصفيق خارج الصلاة لغير حاجة،فأجاب إن
قصد الرجل بذلك اللهو والتشبه بالنساء حرم،وإلا كره(١).
قال الإمام
القليوبي:-
قال
ابن حجر:يكره التصفيق خارج الصلاة مطلقا(٢).
في الانترنت:-
التصفيق
في الحفلات من أعمال الجاهلية وأقل ما يقال فيه الكراهة،والأظهر في الدليل تحريمه،لأن
المسلمين منهيون عن التشبه بالكفرة،وقد قال الله سبحانه في وصف الكفار من أهل مكة،وما
كان صلاتهم عند البيت إلا مكاء Hb وتصدية،قال العلماء المكاء الصفير والتصدية التصفيق،والسنة
للمؤمن إذا رأى أو سمع أو ما ينكره أو يقول:سبحان الله أو يقول:الله أكبر كما صح ذلك
عن النبي صلى الله عليه وسلم في أحاديث كثيرة(٣)
(١)حواشي الشرواني وابن القاسم العبادي:١٥٠\٢
☆حاشية
الشبراملسي والزبيدي:٤٧\٢
☆حاشية
الجمل:١٦٤\٢
(٢)حاشية القليوبي مع الكنز وعميرة:٥٣٤\١
(٣)www.moudir.com 61052
🖌 *اجابہ*: مفتی امین صحیح بولے۔مفتی محمد اسجد ملپا
------------------------------------
*منجانب بحث و نظر فقہ شافعی کوکن*
زیر نگرانی
*مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی*
*مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی*
مرتب
*مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
*مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
ٹیلیگرام پر جائن کریں
https://t.me/bahsonazarfiqhashafaikokan
Comments
Post a Comment