کیا قیامت کے روز انسان کو اس کی ماں کے نام کے ساتھ پکارا جائے گا؟
*(سوال نمبر:75)*
سوال: لوگوں کے درمیان مشہور
یہ ہے کہ قیامت کے روز انسان کو اس کی ماں کے نام کے ساتھ پکارا جائے گا اور حدیث میں
باپ کا تذکرہ ہے اس سلسلے میں صحیح بات کیا
ہے؟
*جواب*
صحیح بات
یہ ہے کہ قیامت کے روز انسان کو باپ کے نام سے پکارا جائے گا اس لئے کہ حضرت ابن عمر
رضی اللہ عنہما کی روایت میں ہے کہ قیامت کے روز انسان کو باپ کے نام سے پکارا جائے
گا البتہ طبرانی کی روایت میں ہے کہ حضرت ابو
امامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ قیامت
کے روز ماں کے نام سے پکارا جائے گا لیکن یہ روایت ضعیف ہے البتہ یہ حدیث شواھدکی وجہ
سے ضعیف نہ رہی بلکہ ضعیف کے درجہ سے بڑھ کر
یہ حسن لغیرہٖ کے حکم میں ہے لیکن اس کے مقابلے میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت کو ترجیح دی جائے گی کیونکہ اس کی سند صحیح ہے البتہ طبرانی
کی روایت کو جس میں ماں کے نام سے پکارا جانے کا تذکرہ ہے علماء نے اس بات پر محمول کیا ہے کہ ولد الزنا اور لعان کے ذریعے نفی کئے ہوئے بچہ کو اس کی ماں کے نام سے پکارا
جائے گا۔
واللہ اعلم بالصواب
رواه الطبراني بلفظ إذا مات احدكم من إخوانكم فسويتم التراب
علي قبره ....ثم يقول يافلان بن فلانة ....قال النووي وهو ضعيف لكن احاديث الفضائل
يتسامح فيها عند اهل العلم وقد اعتضد هذا الحديث بشواهد من الاحاديث الصحيحة ....وانكر
بعضهم قوله ياابن امة الله لان المشهور ان
الناس يدعون يوم القيامة بآبائهم كما نبه عليه البخاري في صحيحه وظاهر ان محله في غير المنفي وولد الزنا
(اسني المطالب 2 /666)
*اجابہ*: مولوی زیدمنی پور(کنڈلور)
------------------------------------
*منجانب بحث و نظر فقہ شافعی کوکن*
زیر نگرانی
*مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی*
*مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی*
مرتب
*مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
*مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
ٹیلیگرام پر جائن کریں
https://t.me/bahsonazarfiqhashafaikokan
Comments
Post a Comment