برائے فروخت فلیٹس پر زکات


سوال نمبر:138)*
سوال
بعض بلڈر حضرات بڑی بڑی عمارتیں بناکر اس کے فلیٹ فروخت کرتے ہیں  یا کبھی کرایہ پر دیتے ہیں تواس طرح کی عمارتوں کی زکات نکالنا واجب ہے ؟
*جواب*
جو عمارتیں براے فروخت ہوتی ہیں جیسا کہ دور حاضر میں فلیٹ فروخت کئے جاتے ہیں ایسی عمارتوں کی قیمت نصاب کے بقدر ہو اور ایک سال گذر جائے تو مالک پر زکات واجب ہوگی بشرط یہ کہ عمارت کی تعمیر براے فروخت مکمل ہوچکی ہو . لیکن وہ عمارتیں جن سے کرایہ کے طور پر آمدنی حاصل ہوتی ہے. جیسا کہ جہاز فیکٹری.اور کاریں جو برائے  کرایہ ہوں اور جانوروں کے فارم یا پولٹری فارم ایسے آمدنی کے وسائل پر براہ راست زکوۃ واجب نہیں ہے بلکہ ان سے ہونے والی آمدنی پر زکوۃ واجب ہے بشرطیکہ وہ بقدر نصاب ہو.اور اس پراسلامی ایک سال مکمل گذر چکا ہو. اس صورت میں 5ء2 زکوۃ واجب ہوگی-


ﺯﻛﺎﺓ اﻟﻌﻤﺎﺭاﺕ ﻭاﻟﻤﺼﺎﻧﻊ ﻭﻧﺤﻮﻫﺎ:
اﺗﺠﻪ ﺭﺃﺱ اﻟﻤﺎﻝ ﻓﻲ اﻟﻮﻗﺖ اﻟﺤﺎﺿﺮ ﻟﺘﺸﻐﻴﻠﻪ ﻓﻲ ﻧﻮاﺡ ﻣﻦ اﻻﺳﺘﺜﻤﺎﺭاﺕ ﻏﻴﺮ اﻷﺭﺽ ﻭاﻟﺘﺠﺎﺭﺓ، ﻭﺫﻟﻚ ﻋﻦ ﻃﺮﻳﻖ ﺇﻗﺎﻣﺔ اﻟﻤﺒﺎﻧﻲ ﺃﻭ اﻟﻌﻤﺎﺭاﺕ ﺑﻘﺼﺪ اﻟﻜﺮاء، ﻭاﻟﻤﺼﺎﻧﻊ اﻟﻤﻌﺪﺓ ﻟﻹﻧﺘﺎﺝ، ﻭﻭﺳﺎﺋﻞ اﻟﻨﻘﻞ ﻣﻦ ﻃﺎﺋﺮاﺕ ﻭﺑﻮاﺧﺮ (ﺳﻔﻦ) ﻭﺳﻴﺎﺭاﺕ، ﻭﻣﺰاﺭﻉ اﻷﺑﻘﺎﺭ ﻭاﻟﺪﻭاﺟﻦ ﻭﺗﺸﺘﺮﻙ ﻛﻠﻬﺎ ﻓﻲ ﺻﻔﺔ ﻭاﺣﺪﺓ ﻫﻲ ﺃﻧﻬﺎ ﻻ ﺗﺠﺐ اﻟﺰﻛﺎﺓ ﻓﻲ ﻋﻴﻨﻬﺎ ﻭﺇﻧﻤﺎ ﻓﻲ ﺭﻳﻌﻬﺎ ﻭﻏﻠﺘﻬﺎ ﺃﻭ ﺃﺭﺑﺎﺣﻬﺎ.

الفقه الإسلامي وأدلته :١٩٤٧/٣

*:مفتي محمداسجدملپا۔مفتی مبین پرکار*
------------------------------------
*منجانب بحث و نظر فقہ شافعی کوکن*   سوال نمبر:138)*

سوال
بعض بلڈر حضرات بڑی بڑی عمارتیں بناکر اس کے فلیٹ فروخت کرتے ہیں  یا کبھی کرایہ پر دیتے ہیں تواس طرح کی عمارتوں کی زکات نکالنا واجب ہے ؟
*جواب*
جو عمارتیں براے فروخت ہوتی ہیں جیسا کہ دور حاضر میں فلیٹ فروخت کئے جاتے ہیں ایسی عمارتوں کی قیمت نصاب کے بقدر ہو اور ایک سال گذر جائے تو مالک پر زکات واجب ہوگی بشرط یہ کہ عمارت کی تعمیر براے فروخت مکمل ہوچکی ہو . لیکن وہ عمارتیں جن سے کرایہ کے طور پر آمدنی حاصل ہوتی ہے. جیسا کہ جہاز فیکٹری.اور کاریں جو برائے  کرایہ ہوں اور جانوروں کے فارم یا پولٹری فارم ایسے آمدنی کے وسائل پر براہ راست زکوۃ واجب نہیں ہے بلکہ ان سے ہونے والی آمدنی پر زکوۃ واجب ہے بشرطیکہ وہ بقدر نصاب ہو.اور اس پراسلامی ایک سال مکمل گذر چکا ہو. اس صورت میں 5ء2 زکوۃ واجب ہوگی-


ﺯﻛﺎﺓ اﻟﻌﻤﺎﺭاﺕ ﻭاﻟﻤﺼﺎﻧﻊ ﻭﻧﺤﻮﻫﺎ:
اﺗﺠﻪ ﺭﺃﺱ اﻟﻤﺎﻝ ﻓﻲ اﻟﻮﻗﺖ اﻟﺤﺎﺿﺮ ﻟﺘﺸﻐﻴﻠﻪ ﻓﻲ ﻧﻮاﺡ ﻣﻦ اﻻﺳﺘﺜﻤﺎﺭاﺕ ﻏﻴﺮ اﻷﺭﺽ ﻭاﻟﺘﺠﺎﺭﺓ، ﻭﺫﻟﻚ ﻋﻦ ﻃﺮﻳﻖ ﺇﻗﺎﻣﺔ اﻟﻤﺒﺎﻧﻲ ﺃﻭ اﻟﻌﻤﺎﺭاﺕ ﺑﻘﺼﺪ اﻟﻜﺮاء، ﻭاﻟﻤﺼﺎﻧﻊ اﻟﻤﻌﺪﺓ ﻟﻹﻧﺘﺎﺝ، ﻭﻭﺳﺎﺋﻞ اﻟﻨﻘﻞ ﻣﻦ ﻃﺎﺋﺮاﺕ ﻭﺑﻮاﺧﺮ (ﺳﻔﻦ) ﻭﺳﻴﺎﺭاﺕ، ﻭﻣﺰاﺭﻉ اﻷﺑﻘﺎﺭ ﻭاﻟﺪﻭاﺟﻦ ﻭﺗﺸﺘﺮﻙ ﻛﻠﻬﺎ ﻓﻲ ﺻﻔﺔ ﻭاﺣﺪﺓ ﻫﻲ ﺃﻧﻬﺎ ﻻ ﺗﺠﺐ اﻟﺰﻛﺎﺓ ﻓﻲ ﻋﻴﻨﻬﺎ ﻭﺇﻧﻤﺎ ﻓﻲ ﺭﻳﻌﻬﺎ ﻭﻏﻠﺘﻬﺎ ﺃﻭ ﺃﺭﺑﺎﺣﻬﺎ.

الفقه الإسلامي وأدلته :١٩٤٧/٣

*:مفتي محمداسجدملپا۔مفتی مبین پرکار*
------------------------------------
*منجانب بحث و نظر فقہ شافعی کوکن*   
 زیر نگرانی 
*
مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی* 
          مرتب 
*
مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
ٹیلیگرام پر جائن کریں
https://t.me/bahsonazarfiqhashafaikokan

 زیر نگرانی 
*
مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی* 
          مرتب 
*
مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
ٹیلیگرام پر جائن کریں
https://t.me/bahsonazarfiqhashafaikokan

Comments

Popular posts from this blog

اگر کسی شخص کی فجر سے پہلے کی سنت نماز چھوٹ جائے تو اسے کب پڑھنا چاہئے؟

حج یا عمرہ کرنے والا صرف بال کٹائے حلق نہ کرائے تو کیا رکن ادا ہوگا؟

لیکوریا سے خارج ہونے والے سفید مادہ سے وضو ٹوٹتا ہے کیا؟