دوران طواف حدث لاحق ہوجائے تو وضو کر نےکے بعد طواف کو ازسرےنو کرنا ضروری نہیں


  *(سوال نمبر:78)*

 سوال:
اگرکسی نے طواف کے تیسرے چکر میں جہاں سے وضو ٹوٹا تھا، وہیں سے طواف شروع کرکے عمرہ مکمّل کر لیا ہے، اب دو دن بعد ذہن میں بات آئی تو، اب کیا کرنا چاہئیے؟اگر دوران طواف حدث لاحق ہو جائے تو وضو کر نےکے بعد طواف کو ازسرنو کرنا ضروری ہے یا بناکرنا ضروری ہے؟
*جواب*
  اگر کسی شخص کو دوران طواف حدث لاحق ہوجائے تو وضو کر نےکے بعد طواف کو ازسرےنو کرنا ضروری نہیں صرف بقیہ طواف کرنا سے کافی ہوجائےگا۔اورجس عمرہ میں یہ مسئلہ پیش آیاہے وہ عمرہ بھی درست ہوگا۔

امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
ولو أحدث في طوافه عمدا لزمه الوضوء وهل يبني علي مامضي من طوافه ،أم يستأنف ؟قولان.  وقيل وجهان أظهرهما. له البناء
(روضة الطالبين  2/ 358)
(ولوأحدث فيه) حدثا أصغر أو أكبر أو انكشفت عورته (توضأ) أو اغتسل أو استتر (وبنى) ،
(تحفة المحتاج  2/ 30)
قال الشافعي رحمه الله :
"ﻭﻻ ﻳﺠﺰﺉ اﻟﻄﻮاﻑ ﺇﻻ ﺑﻤﺎ ﺗﺠﺰﺉ ﺑﻪ اﻟﺼﻼﺓ ﻣﻦ اﻟﻄﻬﺎﺭﺓ ﻣﻦ اﻟﺤﺪﺙ ﻭﻏﺴﻞ اﻟﻨﺠﺲ، ﻓﺈﻥ ﺃﺣﺪﺙ ﺗﻮﺿﺄ ﻭاﺑﺘﺪﺃ، *ﻭﺇﻥ ﺑﻨﻰ ﻋﻠﻰ ﻃﻮاﻑ ﺃﺟﺰﺃﻩ*"
(مختصر المزني الملحق بالأم : 164/8)

🖌 *اجابہ*: مفتی عاقب کوکاٹے۔مفتی عبدالرحیم کیرلوی۔مولوی زیدمنی پوری (کنڈلور)
------------------------------------
*منجانب بحث و نظر فقہ شافعی کوکن*   
 زیر نگرانی 
*
مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی* 
          مرتب 
*
مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
ٹیلیگرام پر جائن کریں
https://t.me/bahsonazarfiqhashafaikokan


Comments

Popular posts from this blog

اگر کسی شخص کی فجر سے پہلے کی سنت نماز چھوٹ جائے تو اسے کب پڑھنا چاہئے؟

حج یا عمرہ کرنے والا صرف بال کٹائے حلق نہ کرائے تو کیا رکن ادا ہوگا؟

لیکوریا سے خارج ہونے والے سفید مادہ سے وضو ٹوٹتا ہے کیا؟