کیا میت کی طرف سے افطار کروانا جائز ہے
سوال نمبر:136)*
سؤال
کیا میت کی طرف سے افطار کروانا جائز ہے، اور اس طرح کرنے
سے اس کا ثواب اس میت کو پہونچے گا؟
*جواب*
میت کی
طرف سے صدقہ کرنامشروع اورجائزہے۔اورصدقہ کا ثواب میت تک پہونچتا ہے، ۔میت کی طرف سے
افطار صدقہ کی قسم میں سے ہے جسکا ثواب میت کی طرف سے صدقہ کی نیت کرنے پر اس تک پہونچے
گا۔لہذااگرصدقہ کی نیت سے کوئی افطارکراناچاہے تواس کی گنجائش ہے ۔
: ( أن
رجلا قال للنبي صلى الله عليه وسلم إن أمي افتلتت نفسها ولم توصي وأظنها لو تكلمت تصدقت
أفلها أجر إن تصدقت عليها فقال النبي صلى الله عليه وسلم : نعم 1
وَفِي هَذَا الْحَدِيثِ ١ جَوَازُ الصَّدَقَةِ عَنْ الْمَيِّتِ٢
وَاسْتِحْبَابُهَا ٣ وَأَنَّ ثَوَابَهَا يَصِلُهُ وَيَنْفَعُهُ ٤وَيَنْفَعُ الْمُتَصَدِّقَ
أَيْضًا وَهَذَا كُلُّهُ أَجْمَعَ عَلَيْهِ الْمُسْلِمُونَ2
وينفع الميت
صدقة عنه ومنها وقف لمصحف وغيره وحفر بئر وغرس شجر منه في حياته أو من غيره عنه بعد
موته" 3ـ
*صحيح البخاري ١٣٨٨*
*صحيح مسلم ١٠٠٤*
*شرح مسلم ١١/٨٤*
*تحفة المحتاج /٧/٧٢*
*✒️:مفتي انس کیرلوی۔مفتی ریاض الرحمن ندوی بھٹکلی*
------------------------------------
*منجانب بحث و نظر فقہ شافعی کوکن*
زیر نگرانی
*مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی*
*مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی*
مرتب
*مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
*مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
ٹیلیگرام پر جائن کریں
https://t.me/bahsonazarfiqhashafaikokan
Comments
Post a Comment