قربانی جانورذبح کرتے وقت خون بدن کاکپڑے پراڑجائے توپاکی ناپاکی کاکیامسئلہ ہے؟؟
*(سوال نمبر:74)*
سوال: قربانی جانورذبح کرتے وقت خون بدن کاکپڑے پراڑجائے
توپاکی ناپاکی کاکیامسئلہ ہے؟؟
*جواب*
قربانی
جانورذبح کرتے وقت بسا اوقات خون کے چھینٹے جسم پر اور بدن پر لگ جاتے ہیں اگر یہ چھینٹے
اتنی مقدار میں ہیں جن کو عرف وعادت اورلوگوں
کی نظرومزاج میں معمولی سمجھے جاتے ہوں تو ان کپڑوں کو پہن کر نماز پڑھنا جا ئز ہے
کیونکہ یہ معفوعنہ مقدار ہے البتہ اگر زیادہ مقدار میں خون کپڑوں اور بدن پر لگ گیاہے تو ان کپڑوں کو پہن کر نماز پڑھنا درست نہ
ہو گا۔
ولو أصابه دم غيره من آدمي او بهيمة او غيرها فإن كان كثيرا
فلا عفو وإن كان قليلا فقولان وقيل وجهان اظهر هما العفو
(روضة الطالبين 1/
387)
وإن كان دم
غيرها من الحيوانات ففيه ثلاثة اقوال قال في الام يعفي عن قليله وهو القدر الذي يتعافاه
الناس في العادة
(المهذب
1/ 223)
🖌 *اجابہ*: مفتی عاقب کوکاٹے۔مولوی زیدمنی پور(کنڈلور)
------------------------------------
*منجانب بحث و نظر فقہ شافعی کوکن*
زیر نگرانی
*مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی*
*مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی*
مرتب
*مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
*مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
ٹیلیگرام پر جائن کریں
https://t.me/bahsonazarfiqhashafaikokan
Comments
Post a Comment