نماز میں تلاوت سجدہ کے بعد بغیر قرآت کے رکوع میں جانا


  *(سوال نمبر:30)*
سوال:
تراویح میں امام نے دوسری رکعت میں آیت سجدہ پر سجدہ کیا پھر قیام کرکے کچھ دیر خاموش رہ کر بغیر تلاوت کے رکوع کرکے نماز مکمل کر لی ۔کیا نماز ہوگئى ؟
*جواب*
تراویح کے قیام میں سورہ فاتحہ کے علاوہ قرآن پاک کی تلاوت کرنا مستحب ہے،چاہے سجدہ تلاوت سے پہلے ہو یا بعد میں لہذا اگر کوئی امام آیت سجدہ پر سجدہ کرکے  قیام میں آجاے تواس کے لئے تلاوت کرنا مستحب ہے البتہ اگر کوئی سجدہ تلاوت کے بعدکچھ دیر خاموش رہ کر رکوع کرے تو اس سے نماز کی صحت پر اثر نہیں ہوگا اورنماز درست ہوجائے گی.
   (وحكم سجود التلاوة حكم صلاة النفل يفتقر إلى الطهارة والستارة واستقبال القبلة لأنها صلاة في الحقيقة فإن كان في الصلاة سجد بتكبير ورفع بتكبير ولا يرفع يديه وإن كان السجود في آخر سورة فالمستحب أن يقوم ويقرأ من السورة بعدها شيئا ثم يركع فإن قام ولم يقرأ شيئا وركع جاز وإن قام من السجود إلى الركوع ولم يقم لم يجز لانه يبتدئ الركوع من قيام.(1)
(1)المذهب علی المجموع 64/4
🖌 *اجابہ*: مفتی محمد اسجد ملپا۔مفتی حسنین کھوت
------------------------------------
*منجانب بحث و نظر فقہ شافعی کوکن*   
 زیر نگرانی 
*
مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی* 
          مرتب 
*
مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
ٹیلیگرام پر جائن کریں
https://t.me/bahsonazarfiqhashafaikokan


Comments

Popular posts from this blog

اگر کسی شخص کی فجر سے پہلے کی سنت نماز چھوٹ جائے تو اسے کب پڑھنا چاہئے؟

حج یا عمرہ کرنے والا صرف بال کٹائے حلق نہ کرائے تو کیا رکن ادا ہوگا؟

لیکوریا سے خارج ہونے والے سفید مادہ سے وضو ٹوٹتا ہے کیا؟