پیشاب کے ساتھ منی نکلنے پر کیا غسل واجب ہوگا
*(سوال
نمبر:67)*
سوال:
اگر کسی شخص کو ایسی بیماری لاحق ہوجائے کہ جب بھی وہ پیشاب
کرے اس کا پیٹ درد کرے پھر اس کے بعد منی نکلنے لگے تو کیا جب بھی منی نکلے اس پر غسل
واجب ہوگا یا نہیں کیونکہ آدمی دن میں ایک سے زیادہ مرتبہ پیشاب کرتا ہے ؟
*جواب*
اگر کسی شخص کو ایسی بیماری لاحق ہو جائے کہ جب بھی وہ پیشاب کرے تو اس کا پیٹ
درد کرے پھر اس کے بعد پیشاب کی جگہ سے منی نکلنے لگے اور نکلنے والے مادہ میں منی
کی کوئی علامت بھی پائی جائے یا ماہر طبیب
اسے منی قرار دے نیز کسی شخص کی منی حالت صحت میں پیشاب کی جگہ کے علاوہ سے نکلے تو
ان صورتوں میں ایسے شخص پر غسل واجب ہوگا البتہ اگر بیماری کی وجہ سے ذکر کے علاوہ
کسی دوسری جگہ یعنی سوراخ وغیرہ سے منی نکلے تو غسل واجب نہیں ہو گا.
فان خرج غير المستحكم من غير المعتاد كأن خرج لمرض فلا
يجب الغسل به ......
إن المني إذا خرج من غير طريقة المعتاد و كان مستحكما
وجب الغسل .....
الحاصل أنه إن خرج من طريقة المعتاد وجب الغسل وان لم
يستحكم١
١) بجيرمي علي الخطيب ١\٢٢٨
الجنابة بانزال المنی
ثم للمني خواص ثلاث.
أحدها: رائحة كرائحة العجين والطلع رطبا، وكرائحة بياض
البيض يابسا.
الثانية: التدفق بدفعات.
الثالثة: التلذذ بخروجه، واستعقابه فتور الذكر، وانكسار
الشهوة.
ولا يشترط اجتماع الخواص، بل واحدة منهن تكفي في كونه
منيا بلا خلاف.
روضة الطالبين :٨٤/١
نعم سلس المني
يلزمه الغسل لكل فرض
منهاج القويم. ١/٦٧
*اجابہ*: مفتی فوادپٹیل ۔مفتی محمد اسجد ملپا۔مولوی
ریاض بھٹکل ضیائی۔
------------------------------------
*منجانب بحث و نظر فقہ شافعی کوکن*
زیر نگرانی
*مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی*
*مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی*
مرتب
*مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
*مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
ٹیلیگرام پر جائن کریں
https://t.me/bahsonazarfiqhashafaikokan
Comments
Post a Comment