روزہ کی حالت میں بیوی کے پاس جائے اور بغیر دخول کے منی نکل جائے تو کیا روزہ ٹوٹ جائے گا؟
*(سوال نمبر:33)*
سوال:
اگر کوئ شخص اپنی بیوی کے پاس جاے اور اسکی منی نکل جاے
شہوت کے ساتھ نہ کہ دخول سے تو اسکا روزہ ٹوٹ جاے گا یا نہیں؟
*جواب*
ا گر کوئی شخص بیوی کے پاس جاے اور کسی حائل کے ساتھ مباشرت
کرے جس کی وجہ سے اسکی منی نکل جائے تو اس
کا روزہ نہیں ٹوٹے گا اس لیے کہ فقہاء کرام نے لکھا ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی
سے ملے اور اس کی منی خارج ہو تو اس کا روزہ نہیں ٹوٹے گا جبکہ درمیان میں کپڑا حائل
ہو ہاں اگر درمیان میں کپڑا حائل نہ ہو تو روزہ ٹوٹ جاے گا.
ولو قبلها صائما ثم فارقها ثم أنزل أفطر إن كانت الشهوة
مستصحبة الذكر قائما وإلا فلا (لا) خروجه بنحو مس فرج بهيمة ولا بنحو المباشرة بحائل
ولا بنحو (الفكر والنظر بشهوة).(1)
ولا يفطر بإنزال المني بفكر (وهو إعمال الخاطر في الشيء)،
أو نظر بشهوة، أو بضم امرأة بحائل بشهوة؛ إذ لا مباشرة، فأشبه الاحتلام، مع أنه يحرم
تكريرها وإن لم ينزل.(2)
(1)تحفة المحتاج410/3
(2)الفقه الإسلامي وأدلته3 /1721
🖌 *اجابہ*: مفتی حسنین کھوت
------------------------------------
*منجانب بحث و نظر فقہ شافعی کوکن*
زیر نگرانی
*مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی*
*مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی*
مرتب
*مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
*مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
ٹیلیگرام پر جائن کریں
https://t.me/bahsonazarfiqhashafaikokan
Comments
Post a Comment