مہر میں پیسہ اور سونے کے علاوہ گھر یا گاڑی وغیرہ دینے کا کیا حکم ہے ؟
*(سوال
نمبر:104)*
سوال:
مہر میں پیسہ اور سونے کے علاوہ گھر یا گاڑی وغیرہ دینے
کا کیا حکم ہے ؟
*جواب*
مہر میں پیسہ اور سونے کے
علاوہ ہر وہ چیز دی جاسکتی ہے جسکا مبیع بننا صحیح ہو خواہ عین ہو دین ہو
منفعت زیادہ ہو کم ہو البتہ اگر وہ چیز اتنی کم ہو کہ وہ مال نہ بن سکتی ہو تو جائز
نہیں ورنہ جائز ہے. لہٰذا اس اعتبار سے اگر کوئی شخص مہر میں سونے اور پیسے کے بجائے
گھر، گاڑی یا اور کوئی چیز دینا چاہے تو دے سکتا ہے.
چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے "اور ان محرمات کے
علاوہ جو عورتیں تمہارے لیے حلال ہیں اس طرح کے مال خرچ کر کے ان سے نکاح کر لو"
(١)
اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
مہر کے طور پر کوئی چیز تلاش کرو اگر چہ لوہے کی انگوٹھی ہی کیوں نہ ہو(٢)
(ﻭ) ﻻ ﺗﺘﻘﺪﺭ ﺻﺤﺔ اﻟﺼﺪاﻕ ﺑﺸﻲء؛ ﻟﻘﻮﻟﻪ ﺗﻌﺎﻟﻰ: {ﺃﻥ
ﺗﺒﺘﻐﻮا ﺑﺄﻣﻮاﻟﻜﻢ} [ اﻟﻨﺴﺎء: 24] ﻓﻠﻢ ﻳﻘﺪﺭﻩ، «ﻭﻗﻮﻟﻪ - ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ -: اﻟﺘﻤﺲ ﻭﻟﻮ
ﺧﺎﺗﻤﺎ ﻣﻦ ﺣﺪﻳﺪ» ﺑﻞ ﺿﺎﺑﻄﻪ ﻛﻞ *(ﻣﺎ ﺻﺢ) ﻛﻮﻧﻪ (ﻣﺒﻴﻌﺎ) ﻋﻮﺿﺎ ﺃﻭ ﻣﻌﻮﺿﺎ ﻋﻴﻨﺎ ﺃﻭ ﺩﻳﻨﺎ ﺃﻭ ﻣﻨﻔﻌﺔ
ﻛﺜﻴﺮا ﺃﻭ ﻗﻠﻴﻼ ﻣﺎ ﻟﻢ ﻳﻨﺘﻪ ﻓﻲ اﻟﻘﻠﺔ ﺇﻟﻰ ﺣﺪ ﻻ ﻳﺘﻤﻮﻝ (ﺻﺢ) ﻛﻮﻧﻪ (ﺻﺪاﻗﺎ)* ﻭﻣﺎﻻ ﻓﻼ.(٣)
وَمَا صَحَّ مَبِيعًا) بِأَنْ وُجِدَتْ فِيهِ شُرُوطُهُ السَّابِقَةُ(صَحَّ
صَدَاقًا)(٤)
ضابطه كل مَا صَحَّ كَونه مَبِيعًا عوضا أَو معوضا صَحَّ كَونه
صَدَاقا ومالا فَلَا( ٥)
وَمَا صَحَّ كونه مبيعا و لو قليلا يتمول صح صداقا و ما لا
فلا (٦)
..................................................
١) سورة
النساء.
٢٤
٢) سنن الترمذی ١١١٤
٣) مغني المحتاج. ٢٨٤/٥
٤) نهاية المحتاج. ٣٣٥/٦
٥) الاقناع. ٤٢٤/٢
٦) السراج الوهاج. ٣٨٧/١
🖌 *اجابہ*: مفتی عاقب کوکاٹے۔مولوی ریاض ندوی
------------------------------------
*منجانب بحث و نظر فقہ شافعی کوکن*
زیر نگرانی
*مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی*
*مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی*
مرتب
*مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
*مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
ٹیلیگرام پر جائن کریں
https://t.me/bahsonazarfiqhashafaikokan
Comments
Post a Comment