اگر کسی شخص کی فجر سے پہلے کی سنت نماز چھوٹ جائے تو اسے کب پڑھنا چاہئے؟


*(سوال نمبر:103)*
 اگر کسی شخص کی فجر سے پہلے کی سنت نماز چھوٹ جائے تو اسے کب پڑھنا چاہئے؟ کیا جماعت ختم ہونے پر فورا سنت پڑھ سکتے ہیں؟
 *جواب*         
حضرت قیس بن سعد سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے صبح کی نماز کے بعد صبح کی سنت نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے قیس یہ کون سی دو رکعت ہیں میں نے کہاں اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں نے فجر سے پہلے کی سنت نماز نہیں پڑھا تھا یہ وہی دو رکعت ہے اس پر آپ خاموش رہے  آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکیر نہیں کی (1)
  مذکورہ روایت سے فقہاء کرام نے یہ مسئلہ مستنبط کیا کہ اگر کسی کی صبح کی سنت نماز چھوٹ جائے تو وہ صبح کی فرض نماز کے فوراً بعد صبح کی سنت پڑھ سکتا ہے اور فقہاء کرام نے صبح کی فرض نماز کے بعد سورج طلوع ہونے کے وقت نماز پڑھنے کی کراہت کو مطلق یعنی بغیر سبب  والی کاسبب متاخروالی  نماز کے ساتھ خاص کیا ہے ۔
وتكره الصلاة عند الاستواء إلا يوم الجمعة. وبعد الصبح حتى ترتفع الشمس كرمحوالعصر حتي تغرب الا لسبب كفائتة(2)
1 )السنن الکبری للبیھقی /4391
(2)النجم الوهاج:30/2'31'32
(3)تحفة المحتاج:441/1
(4)اسني المطالب:124/1
🖌 *اجابہ*: مفتی خالدخان ۔مفتی نعمان صاحب
------------------------------------
*منجانب بحث و نظر فقہ شافعی کوکن*   
 زیر نگرانی 
*
مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی* 
          مرتب 
*
مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
ٹیلیگرام پر جائن کریں
https://t.me/bahsonazarfiqhashafaikokan

Comments

Popular posts from this blog

حج یا عمرہ کرنے والا صرف بال کٹائے حلق نہ کرائے تو کیا رکن ادا ہوگا؟

لیکوریا سے خارج ہونے والے سفید مادہ سے وضو ٹوٹتا ہے کیا؟