کیا میت کو قبر میں دفن کرتے وقت کفن کھول کر کان اور گال کو زمین سے لگانا ضروری ہے؟


*( سوال:۱۵)*
سوال:
 کیا میت کو قبر میں دفن کرتے وقت کفن کھول کر کان اور گال کو زمین سے لگانا ضروری ہے؟
الجواب:
حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے اپنے گھر والوں کو وصیت کی کہ جب تم مجھ کو میرے قبر میں رکھو تو میرے چہرے کو زمین پر اس طور پر رکھو کہ میرے چہرے اور زمین کے درمیان کوئی چیز نہ ہو ۔
(شرح ابن بطال: ۷/۲۱)
(كتاب الزهد لأحمد بن حنبل باب نهد عمر بن الخطاب ١/ ١٢٥)
   مذکورہ روایت کی بناء پر میت کے رخسار سے کفن ہٹا کر میت کے رخسار کو براہ راست مٹی سے  ملانا  مستحب ہے۔
  يستحب أن يوسد رأسه لبنة أو حجر او نحوهما ، ويفضي بخده الأيمن
الى اللبنة ونحوهما أو إلى التراب،وقد صرح المصنف فى التنبيه والأصحاب بالافضاء بهذه الى التراب ومعناه :أن ينحى الكفن عن خده ويوضع على التراب.  (المجموع ٥/۲۵۲)
🖌 *اجابہ: مفتی ارشادپسوارے.مولوی اسماعیل مہالدار
------------------------------------
*منجانب بحث و نظر فقہ شافعی کوکن*   
 زیر نگرانی 
*
مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی* 
          مرتب 
*
مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
ٹیلیگرام پر جائن کریں
https://t.me/bahsonazarfiqhashafaikokan


Comments

Popular posts from this blog

اگر کسی شخص کی فجر سے پہلے کی سنت نماز چھوٹ جائے تو اسے کب پڑھنا چاہئے؟

حج یا عمرہ کرنے والا صرف بال کٹائے حلق نہ کرائے تو کیا رکن ادا ہوگا؟

لیکوریا سے خارج ہونے والے سفید مادہ سے وضو ٹوٹتا ہے کیا؟