انتقال کے بعد عقیقہ کرنا
سوال:
ایک
بچی کا انتقال پندرہ دن کے بعد ہو گیا اور اس کا عقیقہ نہیں ہوا تھا تو انتقال کے بعد
اس کی طرف سے عقیقہ کرنا مسنون ہے یا ساقط ہو جائے گا؟
*جواب*
جس بچی کا انتقال پندرہ دن
کے بعدہو گیا اور اس کا عقیقہ نہیں ہوا تھا اور انتقال سے پہلے اس کی طرف سے عقیقہ
کر نے پر ولی کو قدرت تھی تو اب انتقال کے بعد اس کی طرف سے عقیقہ کرنا مستحب ہے اور
عقیقہ کے گوشت کوقربانی کے گوشت کی عمومی تقسیم کی طرح تین حصہ کرکے تقسیم کیاجائے گا۔
ويستحب أن يعق عمن مات بعد الأيام السبعة والتمكن من
الذبح وقيل تسقط بالموت. (النجم الوهاج جلد 9
صفحه526)
ويندب العق عمن مات بعد الأيام السبعة والتمكن من الذبح
وكذا قبلها. (نهاية المحتاج جلد 8صفحه
124)
هل شترط التصدق منها بشئ
أم يجوز اكلها جميعها فيه وجهان مشهوران ذكرهما المصنف بدليلهما..... (والقول الثاني)
وهو قول جمهور أصحابنا المتقدمين وهو الأصح عند جماهير المصنفين منهم المصنف في التنبيه
يجب التصدق بشئ يطلق عليه الاسم لأن المقصود إرفاق المساكين. (المجموع 8/416)
🖌 *اجابہ*: مفتی مزمل دیوڑے۔مولوی سعودمجاور
------------------------------------
*منجانب بحث و نظر فقہ شافعی کوکن*
زیر نگرانی
*مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی*
*مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی*
مرتب
*مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
*مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
ٹیلیگرام پر جائن کریں
https://t.me/bahsonazarfiqhashafaikokan
Comments
Post a Comment