اگر کوئ شخص طواف اور رمی کے بعد اور حلق سے پہلے خوشبو والا صابن اور تمباکو کا استعمال کرے تو کیا حکم ہے ؟
*(سوال نمبر77)*
سوال:
اگر کوئ شخص طواف اور رمی کے بعد اور حلق سے پہلے خوشبو
والا صابن اور تمباکو کا استعمال کرے تو کیا حکم ہے ؟
*جواب*
حالت احرام میں
محرم کے لئے بعض چیزوں کا استعمال جائز نہیں ہوتا جن میں سے ایک چیز خوشبو ہے خواہ عطر کی شکل میں
ہو یا تیل اور صابن کی شکل میں البتہ طواف افاضہ اور رمی کرنے کے بعد محرم کو تحلل
اول حاصل ہوجاتا ہے یعنی وہ عقد نکاح اور جماع کے علاوہ ہر کام کرسکتا ہے چوں کہ طواف
اوررمی کے بعدخوشبووالاصابن استعمال کیاہے اس لئےخوشبو والے صابن اور تمباکو کے استعمال
سے کوئی فدیہ واجب نہیں ہوگا۔
چنانچہ علامه محمد زھری الغمراوی فرماتے ہیں:
واذا قلنا : الحلق نسک ففعل اثنین:من الرمي والحلق والطواف
حصل التحلل الاول وحل به اللبس والحلق والقلم وكذا الصيد .
السراج الوهاج:127/1
التنبيه في الفقه الشافعي 172/1
النجم الوهاج:535/3
🖌 *اجابہ*: مولوی سعودمجاور (کنڈلور)
------------------------------------
*منجانب بحث و نظر فقہ شافعی کوکن*
زیر نگرانی
*مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی*
*مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی*
مرتب
*مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
*مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
ٹیلیگرام پر جائن کریں
https://t.me/bahsonazarfiqhashafaikokan
Comments
Post a Comment