بیٹھ کر امامت کرنے والے شخص کی اقتداء کرنے کا کیا حکم ہے؟
*(سوال
نمبر:124)*
سوال:
بیٹھ کر امامت کرنے والے شخص کی اقتداء کرنے کا کیا حکم
ہے؟
جواب*
کھڑے ہوکر نماز اداء کرنا
اللہ تعالی کا حکم ہے(1)حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہیں بواسیر
کا مرض تھا تو انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس کے متعلق رخصت دریافت فرمائی تو
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کھڑے ہوکر نماز پڑھو اگر قدرت نہ ہو تو بیٹھ کر اگر
اس کی بھی طاقت نہ ہو تو پہلو پر لیٹ کر نماز اداء کرو(2)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں
کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیماری کے ایام میں بیٹھ کرنمازپڑھائی اورحضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ اورلوگوں نے
کھڑے ہوکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نمازاداکی(3)
مذکورہ احادیث سے استدلال
ہے کہ اگر کوئی شخص عذر کی بناء پر بیٹھ کر نماز پڑھے یاپڑھائےتو جائز ہے نماز درست
ہوجائے گی اسی طرح بیٹھ کر نماز پڑھانے والے امام کی اقتداء کرنا بھی درست ہے بشرطیکہ امام
کا بیٹھنا عذر اور قیام پر قادر نہ ہونے کی بناء پر ہو.
چناچہ امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
(فرع)في مذاهب العلماء: قد ذكرنا أن مذهبنا جواز
صلاة القائم خلف القاعد
العاجز وأنه
لا تجوز صلاتهم وراءه قعودا(4)
(1)سورۃ البقرۃ :238
2)مختصر صحیح الامام البخاری,باب صلاۃ القاعد:554
(3)مسلم:418
(4)المجموع:265/4
* البیان:442/2
🖌 *اجابہ*:مفتی خالد خان ۔ مفتی سعودمجاورندوی
------------------------------------
*منجانب بحث و نظر فقہ شافعی کوکن*
زیر نگرانی
*مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی*
*مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی*
مرتب
*مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
*مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
ٹیلیگرام پر جائن کریں
https://t.me/bahsonazarfiqhashafaikokan
Comments
Post a Comment