بیٹی کا والدین کو زکوۃ دینے کا شرعی حکم


*(سوال نمبر:40)*
 سوال:
اگروالدین انتہائی غریب ہیں توان کی بیٹی انھیں زکوۃ دے سکتی ہے یانہیں؟
*جواب*
اگروالدین غریب ہیں اوربیٹی مالدار ہے تو وہ اپنے غریب والدین کو اپنے ذاتی مال میں سے زکوۃ نہیں دے سکتی اس لئے کہ  والدین کانفقہ مالداربیٹے کی طرح بیٹی پربھی واجب ہوتاہے ۔لیکن اگروہ اپنے شوہر کے مال کی زکوۃ کی رقم اپنے والدین کودے رہی ہے تواس کی اجازت ہے بلکہ اس کے لئےوالدین کودیناافضل ہے اس لئے قریبی رشتہ داروں کاتعاون کرنے میں دوہرااجر ہے۔

فان كان في الأصناف أقارب له لا يلزمه نفقتهم فالمستحب أن يخص
الاقرب لما روت أم كلثوم بنت عقبة بن أبى معيط رضي الله عنها قالت " سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول الصدقة علي المسكين صدقة وهى علي ذى القرابة صدقة وصلة ")
المهذب علی المجموع :٢١٩/٦
ترتيب الأصول والفروع في الإنفاق:
إذا كان الوالدين فقيرين، وكان لهما فروع، واستووا في القُرب، أنفقوا عليهما، لأن عّلة إيجاب النفقة تشملهم جميعاً. وتكون حصة الأُنثى من النفقة كنصف حصة الذكر، كالإرث. وإن اختلفوا في درجة القُرب، كابن، وابن ابن، فإن النفقة إنما تجب على الأقرب، وارثاً كان أو غير وارث، ذَكَراً كان أو أُنثى، لأن القُرْب أولى بالاعتبار.
الفقه المنهجي 177/4
*اجابہ*: مفتی ضمیرنجے۔مفتی خالدخان
------------------------------------
*منجانب بحث و نظر فقہ شافعی کوکن*   
 زیر نگرانی 
*
مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی* 
          مرتب 
*
مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
ٹیلیگرام پر جائن کریں
https://t.me/bahsonazarfiqhashafaikokan


Comments

Popular posts from this blog

اگر کسی شخص کی فجر سے پہلے کی سنت نماز چھوٹ جائے تو اسے کب پڑھنا چاہئے؟

حج یا عمرہ کرنے والا صرف بال کٹائے حلق نہ کرائے تو کیا رکن ادا ہوگا؟

لیکوریا سے خارج ہونے والے سفید مادہ سے وضو ٹوٹتا ہے کیا؟