دوسری مرتبہ ختنہ کرنے کا حکم


*(سوال نمبر:21)*
سوال :
      اگر کسی شخص کا ایک بار ختنہ ہوگیا ہو لیکن ڈاکٹر کسی وجہ سے دوبارہ ختنہ کرنے کہے تو دوبارہ ختنہ کرنے کا کیا حکم ہے ؟
*جواب*:
         اگر کسی شخص کا ایک بار ختنہ ہوگیا ہو لیکن پہلی مرتبہ کیا ہوا ختنہ صحیح طور پر مکمل نہ ہوا ہو تو ایسی صورت میں دوبارہ ختنہ کرنا واجب ہے، تاکہ واجب مکمل ہوجائے.
    لھذا اس اعتبار سے اگر کوئی ماہر ڈاکٹر کسی عذر یا مرض کی بنا پر دوبارہ ختنہ کرنے کا حکم دے تو دوبارہ ختنہ کرنے کی گنجائش ہوگی.
" لو ولد مختونا بلا قلفة فلا ختان لا إيجابا ولا استحبابا فإن كان من القلفة التي تغطي الحشفة شيء موجود وجب قطعه ، كما لو ختن ختانا غير كامل فانه يجب تكميله ثانيا حتى يبين جميع القلفة التي جرت العادة بازالتها في الختان.
(المجموع ١/٣٦٩)
🖌 *اجابہ*: مولوی اسماعیل مہالدار
       ------------------------------------
*منجانب بحث و نظر فقہ شافعی کوکن*   
 زیر نگرانی 
*
مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی* 
          مرتب 
*
مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
ٹیلیگرام پر جائن کریں
https://t.me/bahsonazarfiqhashafaikokan


Comments

Popular posts from this blog

اگر کسی شخص کی فجر سے پہلے کی سنت نماز چھوٹ جائے تو اسے کب پڑھنا چاہئے؟

حج یا عمرہ کرنے والا صرف بال کٹائے حلق نہ کرائے تو کیا رکن ادا ہوگا؟

لیکوریا سے خارج ہونے والے سفید مادہ سے وضو ٹوٹتا ہے کیا؟