صلوۃ الاستخارہ کا طریقہ کیا ہے؟


*(سوال نمبر:128)*
سوال:
صلوۃ الاستخارہ(دو معاملہ میں سے کسی ایک کو اختیار کرنے کے لئے پڑھی جانے والی نماز)کا طریقہ کیا ہے؟

*جواب*
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں استخارہ کی نماز اس طرح سکھلاتے تہے جیسے قرآن مجید کی تعلیم دیتے تہے (1)یہ دو رکعت نماز ہے جس کو اوقات مکروہ کہ علاوہ میں اداء کیاجائے گا لہذا اس شخص کے لئے چاہئے جس کو دو معاملات میں خیر اور شر کا علم نہ ہو یا پس و پیش ہوتووہ استخارہ کی سنت نماز کی نیت سے دو رکعات  اداء کرے اور پہلی رکعت میں سورہ کافروں اوردوسری میں سورہ اخلاص پڑھے۔ اس کے بعد یہ دعاء پڑھے"اللهم إني أستخيرك بعلمك، وأستقدرك بقدرتك، وأسألك من فضلك العظيم، فإنك تقدر ولا أقدر، وتعلم ولا أعلم، وأنت علام الغيوب، اللهم إن كنت تعلم أن هذا الأمر خير لي في ديني ومعاشي وعاقبة أمري، فأقدره لي، ويسره لي، ثم بارك لي فيه، اللهم إن كنت تعلم أن هذا الأمر شر لي في ديني ومعاشي وعاقبة أمري فاصرفه عني واصرفني عنه، واقدر لي الخير حيث كان، ثم ارضني به"واضح رہے کہ استخارہ صرف غیر واجب اور مستحب اور مباح اعمال میں ہوتا ہے نہ کہ حرام اور مکروہ کاموں میں.لہذا ایک مرتبہ یہ عمل کرنے کے بعد اگر شرح صدر ہو تو ٹھیک ورنہ بار بار یہ عمل دہراتے رہے یہاں تک کے شرح صدر ہوجائے.

چنانچہ امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

صلاة الاستخارة سنة وهى أن من أراد من الأمور صلى ركعتين بنية صلاةالاستخارة ثم دعا،  واتفق أصحابنا وغيرهم على أنها سنة لحديث جابر رضي الله عنه (2)

علامہ دمیری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

واستحب بعض السلف أن يقرأ في الركعة الأولى: {قل يا أيها الكافرون}، وقوله تعالى: {وربك يخلق ما يشاء ويختار ما كان لهم الخيرة} إلى {يعلنون}، وفي الثانية: (الإخلاص) وقوله تعالى: {وما كان لمؤمن ولا مؤمنة إذا قضى الله ورسوله أمرا أن يكون
 لهم الخيرة من أمرهم} الآية، وهو حسن.(3)

(1)صحیح بخاری:1162
(2)المجموع:58/4
(3)النجم الوھاج:306/2
(*)حاشیۃ البجیرمی:428/1
(*)اسنی المطالب:417/1

*اجابہ*:مفتی خالد خان ۔مفتی سلمان نجمی
------------------------------------
*منجانب بحث و نظر فقہ شافعی کوکن*   
 زیر نگرانی 
*
مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی* 
          مرتب 
*
مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
ٹیلیگرام پر جائن کریں
https://t.me/bahsonazarfiqhashafaikokan

Comments

Popular posts from this blog

اگر کسی شخص کی فجر سے پہلے کی سنت نماز چھوٹ جائے تو اسے کب پڑھنا چاہئے؟

حج یا عمرہ کرنے والا صرف بال کٹائے حلق نہ کرائے تو کیا رکن ادا ہوگا؟

لیکوریا سے خارج ہونے والے سفید مادہ سے وضو ٹوٹتا ہے کیا؟