وضو کے بعد دعا پڑھنا اور اسکے لئے ہاتھ اٹہانے کیسا ہے؟
*(سوال نمبر:86)*
سوال:
وضو کے بعد دعا پڑھنا اور اسکے لئے ہاتھ اٹہانے کیسا ہے؟بعض حضرات دوران دعا شہادت
کی انگلی اٹہاتے ہیں شرعا اس کی کیا دلیل ہے؟
*جواب*
حضرت انس بن مالک رض سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم
نے فرمایا.جس نے وضو کیا اور"أشهد أن لا إله إلا الله وحده
لا شريك له وأشهد أن محمدا عبده ورسوله اللهم اجعلني من التوابين واجعلني من المتطهرين"
پڑھا تواس کے لئے جنت کے آٹھوں دروازہ کھول دیے جاتے ہیں جس سے چاہے داخل ہوجائے(1)
فقہاء کرام نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے کہ وضو کے بعد حدیث میں مذکور دعا پڑھنامستحب ہے.نیز احادیث میں
موجود دیگردعاووں کا پڑھنا بھی مستحب ہے،اور فقہاء نے دعا کے لئے دونوں ہاتھوں کے اٹھانے
کا تذکرہ کیا ہے نیز شہادت کی انگلی اٹہانے
کی کوئ اصل نہیں لہذاآسمان کی طرف انگلی اٹھانے سے بچنا چا ہیے .
علامہ سلیمان المعروف بالجمل فرماتے ہیں:
قوله:( متوجه القبلة) أي بصدره رافعا يديه وبصره إلى السماء
ولو نحو أعمى كهيئة الداعي حتى عند قوله أشهد أن لا إله إلا الله، ولا يقيم سبابتيه
أو إحداهما كما يفعله جهلة الطلبة من مجاوري الجامع الازہر(2)
چنانچہ ابن حجر ہیتمی فرماتے ہیں:
ويسن أن يأتي بجميع هذا ثلاثا كما مر مستقبل القبلة بصدره
رافعا يديه وبصره ولو نحو أعمى كما يسن إمرار الموسى على الرأس الذي لا شعر به تشبها
للسماء(3)
ا)سنن الصغیر للبیہقی :109
2)حاشیۃ الجمل215/1
3)تحفۃ المحتاج:139/1
*اجابہ*: مفتی مزمل دیوڑے۔مولوی سعودندوی (کنڈلور)
------------------------------------
*منجانب بحث و نظر فقہ شافعی کوکن*
زیر نگرانی
*مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی*
*مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی*
مرتب
*مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
*مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
ٹیلیگرام پر جائن کریں
https://t.me/bahsonazarfiqhashafaikokan
Comments
Post a Comment