مسلمان مزدور کا مندر میں کلر لگانا اور اس پر اجرت لینا کیسا ہے؟
*(سوال
نمبر:87)*
سوال:
مسلمان مزدور کا مندر میں کلر لگانا اور اس پر اجرت لینا
کیسا ہے؟
*جواب*
اللہ تعالی کا ارشاد ہے تم نیکی اور تقوی میں ایک دوسرے کا تعاون کرو اور
ظلم میں تعاون نہ کرو(1) اس آیت کے تحت علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں"اللہ
اپنے بندوں کو نیکی کے کاموں میں تعاون کا حکم دیتا ہے اور گناہ اور حرام کاموں پر
تعاون سے منع فرماتا ہے(2). چونکہ مندر یہ بت پرستی اور کفر و شرک کی جگہ ہے اور مذکورہ
دونوں اعمال اسلام کے منافی ہیں لہذا ان کی تزین' درستگی اور دیگر امور میں تعاون کرنا تعاون علی الاثم ہے جو کہ حرام ہے اور حرام کاموں پر اجرت لینا بھی حرام عمل ہے لھذا
مندر کو کلر لگانا اور اس پر اجرت لینا جائز نہیں ہے.
امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
يجوز عقد
الاجارة على المنافع المباح.....
ولا تجوز
على المنافع المحرمة لانه يحرم فلا يجوز أخذ العوض عليه كالميتة والدم.(3)
علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
ولايجوز أن يعاون احد علي الفاحشة ولا غير ها من المعاصي(4)
المائدة:2
تفسير ابن كثير:10/2
المجموع:311/15
مجموع الفتاوي:81/30
موسوعة الفقه الاسلامي:555/4
🖌 *اجابہ*: مولوی سعودندوی۔مولوی محمدرفاعی مدراسی (کنڈلور)
------------------------------------
*منجانب بحث و نظر فقہ شافعی کوکن*
زیر نگرانی
*مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی*
*مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی*
مرتب
*مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
*مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
ٹیلیگرام پر جائن کریں
https://t.me/bahsonazarfiqhashafaikokan
Comments
Post a Comment