پندرہ شعبان کے روزے کا کیا حکم ہے؟
*(سوال نمبر:127)*
سوال:
پندرہ شعبان کے روزے کا کیا حکم ہے؟
*جواب*
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے
مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم پندرہ شعبان کی رات
میں عبادت اور س کے دن میں روزہ رکھو (1)اس
حدیث کی بناء پر فقھاء شوافع میں سے صرف علامہ رملی نے اس حدیث کو قابل حجت مان کر
اس روزہ کے استحباب کا تذکرہ کیا ہے لیکن ساتھ میں تیرہ اور چودہ کا روزہ بھی مستحب
قرار دیاہے نیز شیخ ابن حجر الھیتمی نے اس روزہ کے استحباب پر قطعا فیصلہ نہیں کیا اور
خاص طور پر اس دن کے ساتھ روزہ کے استحباب کی تخصیص نہیں فرمائی بلکہ وہ فرماتے ہیں
کہ اس مہینہ میں ہر ماہ کی طرح تیرہ چودہ پندرہ کو روزہ رکھاجائے تاکہ ایام بیض کی
سنیت حاصل ہوجائے لھذا بہتر یہی ہے کہ شیخ ابن حجر کے فتوی پر عمل کیاجائے تاکہ اگر
پندرہ شعبان کا روزہ مستحب ہو تب بھی اس صورت میں یہ سنیت حاصل ہوجائے گی لیکن اگر
کوئی صرف پندرہ شعبان کا روزہ رکھتا ہوتو اس کو سختی سے منع بھی نہ کیاجائے اور نہ
رکھے والے کو رکھنے پر اصرار نہ کیا جائے
قال الرملي رحمه الله
يُسَنُّ صَوْمُ نِصْفِ شَعْبَانَ بَلْيُسَنُّ صَوْمُ ثَالِثَ
عَشَرِهِ وَرَابِعَ عَشَرِهِ وَخَامِسَ عَشَرِهِ وَالْحَدِيثُ الْمَذْكُورُ يُحْتَجُّ
بِهِ. .(2)
قال ابن حجر المكي رحمه الله
وَأَمَّا صَوْمُ يَوْمِهَا فَهُوَ سُنَّةٌ مِنْ حَيْثُ كَوْنُهُ
مِنْجُمْلَةِ الْأَيَّامِ الْبِيضِ لَا مِنْ حَيْثُ خُصُوصُهُ (3)
(1)سنن ابن ماجه 1388
(2)فتاوي رملي 2/ 79
(3)الفتاوي الكبري الفقهية 2/ 80
🖌 *اجابہ*:مفتی توصیف پٹیل۔مفتی زیدمنی پوری
------------------------------------
*منجانب بحث و نظر فقہ شافعی کوکن*
زیر نگرانی
*مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی*
*مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی*
مرتب
*مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
*مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
ٹیلیگرام پر جائن کریں
https://t.me/bahsonazarfiqhashafaikokan
Comments
Post a Comment