کیا اس موسم میں اگر ہمارے ساحلی علاقہ میں اگر پانی کی شدید قلت ہو تو صلاة استسقاء پڑھی جاسکتی ہے؟


*سوال نمبر:119*
سوال:
 کیا اس موسم میں اگر ہمارے ساحلی علاقہ میں اگر پانی کی شدید قلت ہو تو صلاة استسقاء پڑھی جاسکتی ہے؟
*جواب*
استسقاء کے لغوی معنی پانی طلب کرنا ہے اور شرعی معنی دعا و نماز کے ذریعے اللہ سے پانی کو طلب کرنا، پانی کے منقطع ہونے پر استسقاء کا عمل مسنون ہے لہذا جب پانی ختم ہوجائے یا پانی کی شدید قلت ہو بارش نہ ہونے کی وجہ سے یا ایسے نہر و چشمے کے خشک ہوجانے کی وجہ سے۔الغرض جب لوگوں کو پانی کی ضرورت ہوتو ایسے وقت میں استسقاء کا عمل کرسکتے ہیں البتہ  نہر اور چشمہ کا پانی  ایسے وقت میں خشک ہوجائے جس وقت لوگوں کو پانی کی ضرورت نہ ہو، تو پھر اس وقت استسقاء کا عمل مشروع نہ ہوگا ۔

امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

وإنما يشرع الاستسقاء إذا أجدبت الأرض وانقطع الغيث أو النهر أو العيون المحتاج إليها وقد ثبتت الأحاديث الصحيحة في استسقاء رسول الله صلى الله عليه وسلم بالصلاة وبالدعاء قال أصحابنا ولو انقطعت المياه ولم يدع إليها حاجة في ذلك الوقت لم يستسقوا لعدم الحاجة(1)

(1)المجموع 65/5
   
🖌 *اجابہ*: مفتی حسنین کھوت۔
------------------------------------
*منجانب بحث و نظر فقہ شافعی کوکن*   
 زیر نگرانی 
*
مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی* 
          مرتب 
*
مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
ٹیلیگرام پر جائن کریں
https://t.me/bahsonazarfiqhashafaikokan

Comments

Popular posts from this blog

اگر کسی شخص کی فجر سے پہلے کی سنت نماز چھوٹ جائے تو اسے کب پڑھنا چاہئے؟

حج یا عمرہ کرنے والا صرف بال کٹائے حلق نہ کرائے تو کیا رکن ادا ہوگا؟

لیکوریا سے خارج ہونے والے سفید مادہ سے وضو ٹوٹتا ہے کیا؟