وترکی تیسری رکعت میں توجیہ پڑھنے کاکیاحکم ہے؟


*(سوال نمبر:37)*
 سوال:
وترکی تیسری رکعت میں توجیہ پڑھنے کاکیاحکم ہے؟
*جواب*
جب کوئی شخص افضل صورت پر عمل کرتے ہوئے وتر کی تین رکعت دو سلام سے پڑھ رہا ہو یعنی تیسری رکعت الگ سے پڑھ رہا ہو تو اس میں توجیہ پڑھنا سنت ہے.

وإذا أراد الإتيان بثلاث ركعات ففي الأفضل أوجه الصحيح أن الأفضل أن يصليها مفصولة بسلامين لكثرة الأحاديث الصحيحة فيه ولكثرة العبادات فإنه تتجدد النية ودعاء التوجه والدعاء في آخر الصلاة والسلام وغير ذلك.
(المجموع :١٣/٤)
🖌 *اجابہ*: مفتی محمد اسجد ملپا
------------------------------------
*منجانب بحث و نظر فقہ شافعی کوکن*   
 زیر نگرانی 
*
مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی* 
          مرتب 
*
مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
ٹیلیگرام پر جائن کریں
https://t.me/bahsonazarfiqhashafaikokan


Comments

Popular posts from this blog

اگر کسی شخص کی فجر سے پہلے کی سنت نماز چھوٹ جائے تو اسے کب پڑھنا چاہئے؟

حج یا عمرہ کرنے والا صرف بال کٹائے حلق نہ کرائے تو کیا رکن ادا ہوگا؟

لیکوریا سے خارج ہونے والے سفید مادہ سے وضو ٹوٹتا ہے کیا؟