کیا والد اپنے ایک سالہ بچے کی قربانی کرسکتا ہے؟


  *(سوال نمبر:72)*
 سوال:
   کیا والد اپنے ایک سالہ بچے کی قربانی کرسکتا ہے؟
*جواب*
قربانی بالغ، عاقل، اور استطاعت رکھنے والے مسلمان پر مسنون ہے لہذا نابالغ بچہ قربانی کا مخاطب نہیں ہے البتہ اگر اس کا ولی جیسے بچہ کا والد اپنے مال سےاس بچہ کی طرف سے قربانی کرنا چاہے تو قربانی کرسکتا ہے اور قربانی درست ہوجائے گی.
معلوم ہوا کہ اگر ایک سالہ بچے کی طرف سے اس کا والداپنے مال سے قربانی کرنا چاہے تو قربانی کرسکتا ہے.

امام باعشن ؒ  فرماتے ہیں:-
   وإنما تسن لحر أو مبعض مسلم رشيد، نعم، لأصل قادر بأن ملك زائدا عما يحتاجه يوم العيد وليلته وأيام التشريق ما يحصل به الأضحية كما في ( بج )، تضحية عن فرعه من مال نفسه.(١)

امام ابن حجر هيتميؒ فرماتے ہیں:-
   رَّ أَنَّ لِلْوَلِيِّ الْأَبِ فَالْجَدِّ التَّضْحِيَةَ عَنْ مُوَلِّيهِ.(٢)

امام دمیاطیؒ فرماتے ہیں:-
   للولي الأب والجد لا غير التضحية عن موليه من مال نفسه.(٣)
(١) بشرى الكريم: ٦٩٣
(٢)تحفة المحتاج: ٣٦٩/٩
(٣)إعانة الطالبين: ٣٣١/٢
*اجابہ*: مفتی فوادپٹیل۔مفتی امیں صحیح بولے۔مفتی محمد اسجدملپا
------------------------------------
*منجانب بحث و نظر فقہ شافعی کوکن*   
 زیر نگرانی 
*
مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی* 
          مرتب 
*
مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
ٹیلیگرام پر جائن کریں
https://t.me/bahsonazarfiqhashafaikokan



Comments

Popular posts from this blog

اگر کسی شخص کی فجر سے پہلے کی سنت نماز چھوٹ جائے تو اسے کب پڑھنا چاہئے؟

حج یا عمرہ کرنے والا صرف بال کٹائے حلق نہ کرائے تو کیا رکن ادا ہوگا؟

لیکوریا سے خارج ہونے والے سفید مادہ سے وضو ٹوٹتا ہے کیا؟