ایک مسلمان شخص کوشمشان (میت جلانے کی جگہ)کو بنانے کا کام ملاہے مسلم کو یہ کام کرنا اور اس پراجرت لیناجائز ہے یا نہیں؟
*(سوال نمبر:109)*
ایک مسلمان شخص کوشمشان (میت جلانے کی جگہ)کو بنانے کا کام
ملاہے مسلم کو یہ کام کرنا اور اس پراجرت لیناجائز
ہے یا نہیں؟
*جواب*
شمشان (میت جلانے کی جگہ)کو
بنانے کاکام لینا مسلمان کےلئے جائز نہیں اسلئے
کہ اس میں تعاون علی المعصیہ لازم آتاہے اور
اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ تم لوگ آپس میں ظلم اور گناہ کے مقابلہ میں مدد نہ
کرو (1)لہذا شمشان (میت جلانے کی جگہ)اوراس جیسے کاموں پراجرت لینے سے احتیاط برتنا
ضروری ہے۔
قال الإمام النيسابوري رحمه الله:
إن الباطل والإثم لايصلح لأن يقتدي به ويعان عليه(2)
قال الإمام العمراني رحمه الله:
: ولا
تجوز الإجارة على المنافع المحرمة،.....
دليلنا: قوله
- عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ -: «لعن الله الخمرة وحاملها» . وإذا كان حملها
محرمًا.. قلنا: منفعتها محرمة، فلم يجز أخذ العوض عليها(3)
قال النووي رحمه الله:
ولا تجوز على المنافع المحرمة لانه يحرم فلا يجوز أخذ العوض
عليه(4)
(1)سورة المائده 2
(2)غرائب القرآن 2/
1012
(3)البيان 7/
248
(4)المجموع 15/
311
★المهذب 2/
580
*اجابہ*: مولوی زیدمنی پور(کنڈلور)
------------------------------------
*منجانب بحث و نظر فقہ شافعی کوکن*
زیر نگرانی
*مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی*
*مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی*
مرتب
*مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
*مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
ٹیلیگرام پر جائن کریں
https://t.me/bahsonazarfiqhashafaikokan
Comments
Post a Comment