تراویح میں ایک رکعت پر سلام پھیر کر پھر ایک رکعت ملانے کا حکم
*(سوال
نمبر:45)*
سوال:
اگر امام تراویح میں ایک رکعت پڑھا اور اس نے سجدہ سہو کیا
پھر سلام کے بعد اسے یاد آیا کہ میں نے حقیقیت میں ایک ہی رکعت پڑھی ہے پھر وہ فورا ً کھڑا ہوگیا اور اس نے ایک رکعت پڑھی اور پھر سجدہ سہو کیا تو کیا اس کرنے سے وہ نماز
صحیح ہوگی یا نہیں؟؟؟
*جواب*
اگر امام صاحب تراویح میں ایک رکعت پڑھ لے اور شک کی وجہ
سے سجدہ سہو بھی کرلے لیکن سلام کے بعد یاد آئے کہ ایک رکعت ہی ہوئی ہے اور سلام کے
بعد زیادہ وقت نہیں گزرا ہے تو فوراً مزید ایک رکعت پڑھنا ضروری ہے اور آخر میں سجدہ
سہو کرنا سنت ہے اور اس صورت میں نماز درست ہوجائے گی اس لئے کہ ایک رکعت پر سلام پھیرنا
اور سجدہ سہو کرنا یہ سب سہواً اور جہلا ہوا ہے اس لئے معاف ہے۔البتہ سلام کے بعد کافی
دیر ہوجائے پھر یاد آجائے اور ایک رکعت ہوئی یا دو رکعت اس بحث میں کافی وقت ہو جائے
تو مکمل دو رکعت بغیر سجدہ سہو کے ادا کرنا لازم ہے۔
إذا سلم من
صلاته ثم تيقن أنه ترك ركعة أو ركعتين أو ثلاثا أو أنه ترك ركوعا أو سجودا أو غيرهما
من الأركان سوى النية وتكبيرة الإحرام فإن ذكر السهو قبل طول الفصل لزمه البناء على
صلاته فيأتي بالباقي ويسجد للسهو وإن ذكر بعد طول الفصل لزمه استئناف الصلاة هكذا قاله
المصنف هنا ونص عليه الشافعي في الأم والبويطي وصرح به الأصحاب في جميع الطرق
المجموع :١١٣/٤
🖌 *اجابہ*: مفتی محمد اسجد ملپا
------------------------------------
*منجانب بحث و نظر فقہ شافعی کوکن*
زیر نگرانی
*مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی*
*مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی*
مرتب
*مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
*مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
ٹیلیگرام پر جائن کریں
https://t.me/bahsonazarfiqhashafaikokan
Comments
Post a Comment