اگر کسی شخص کی نمازیں قضاء ہوں اور وہ فی الحال نہیں پڑھ سکتا ہے کیا دوسرا شخص اس کی طرف سے پڑھ سکتا ہے؟
سوال نمبر:142)*
سوال :
اگر کسی شخص کی نمازیں قضاء ہوں اور وہ فی الحال نہیں پڑھ
سکتا ہے کیا دوسرا شخص اس کی طرف سے پڑھ سکتا ہے؟
*جواب*
اگر کسی شخص کی نمازیں قضاء
ہوں اور وہ فی الحال نہیں پڑھ سکتا ہے تو کوئی دوسرا شخص اس کی طرف سے نماز نہیں پڑھ
سکتا ہے، اسلئے کہ کسی شخص کو کسی ایسے کام میں نائب بنانا درست ہے جس کام میں نیابت
درست ہو۔اورطواف کی دورکعت کے علاوہ کسی بھی نمازمیں میں نیابت درست نہیں ہے۔ لہذاہرآدمی
اپنی نمازاداکرے۔کسی کونائب نہ بنائے۔
وَذَهَبَ جُمْهُورُ الْفُقَهَاءِ وَسَائِرُ الْعُلَمَاءِ إِلَى
أَنَّ النِّيَابَةَ فِي الصَّلَاةِ لَا تَصِحُّ بِحَالٍ مع قدرة ولا عجز؛ لقول الْعُلَمَاءِ
إِلَى أَنَّ النِّيَابَةَ فِي الصَّلَاةِ لَا تَصِحُّ بِحَالٍ مَعَ قُدْرَةٍ وَلَا
عَجْزٍ١
- أن
يكون الموكِّل فيه قابلاً للنيابة، فلا يصحّ التوكيل فيما لا يقبل النيابة، ولذا لا
تصح الوكالة في العبادات البدنية المحضة كالصلاة والصوم، لأن حكمة تشريعها الابتلاء
والاختبار بمجاهدة النفس، وذلك لا يحصل بفعل غير المكلف بها.٢
وأما الصلاة: فلا تصح النيابة فيها إلا في ركعتي الطواف على
سبيل التبع للحج.٣
-------------------------------------
١) الحاوي الكبير ٣١٣/١٥
٢) الفقه المنهجي ١٧٢/٧
٣) البيان ٣٩٦/٤
* فتح العزيز. ٦/١١
* الغرر البهية ٣٩٨/١
*✒️:مفتي خالدخان حسینی۔مفتی ریاض الرحمن ندوی بھٹکلی*
------------------------------------
*منجانب بحث و نظر فقہ شافعی کوکن*
زیر نگرانی
*مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی*
*مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی*
مرتب
*مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
*مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
ٹیلیگرام پر جائن کریں
https://t.me/bahsonazarfiqhashafaikokan
Comments
Post a Comment