نکاح کے وقت مردوں کو سونے کی انگوٹھی دینے کا حکم
سوال:
بعض جگہ پر نکاح کے وقت مرد کو سونے کی انگوٹھی پہنادی جاتی
ہے چوں کہ اسلام میں مردوں کو سونا پہننا حرام ہے تو اس سونے کی انگوھی کےبجائے ڈائمنڈ
کی انگوٹھی دی جاسکتی ہے یا نہیں؟
*جواب*
بعض جگہ پر
نکاح کے وقت مردوں کو سونے کی انگوٹھی پہنادی
جاتی ہے اس عمل سے احتیاط ضروری ہے اس لئے کہ اسلام میں مردوں کو سونا پہننا حرام ہے۔لہذاسونے
کی انگوھی کےبجائے ڈائمنڈ کی انگوٹھی دی جائے اس لئے کہ سونے کے علاؤہ ڈائمنڈ وغیرہ
کی انگوٹھی دینا اور پہننا جائز ہے
قال الشافعي رضي الله عنه. إنما أكره لبس الياقوت والزبرجد
من جهة السرف فلو إتخذ لخاتمه فصا منها ..جاز قطعا
(النجم الوهاج 1 /258)
كياقوت. ومن خواصه أن التختم به ينفي الفقر ومثله المرجان
(بجيرمي علي الخطيب 1/ 116)
*اجابہ*: مولوی زید منی پوری۔
------------------------------------
*منجانب بحث و نظر فقہ شافعی کوکن*
زیر نگرانی
*مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی*
*مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی*
مرتب
*مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
*مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
ٹیلیگرام پر جائن کریں
https://t.me/bahsonazarfiqhashafaikokan
Comments
Post a Comment