رمضان میں حیض بند ہونے کے بعد پھر خون شروع ہونے پر روزوں کو رکھنا ہوگا یا نہیں


  *(سوال نمبر:34)*
 سوال:
رمضان میں ایک عورت کوحیض بندہونے کے بعد تیرھویں دن خون شروع ہوگیا تو اسے حیض مان کرروزوں کوترک کرناضروری ہے؟
*جواب*
دوحیض کے درمیان کم ازکم پاکی کی مدت پندرہ دن ہے ،اگرحیض بندہونے کے بعد کسی کو پندرہ دن مکمل ہونے سے پہلے خون نظرآئے اورخون آنے کا وقت ایام حیض اور ایام پاکی کی مجموعی مدت پندرہ دن کے بعد کاہے تویہ خون حیض کاشمارنہیں ہوگااس اعتبارسےاگر جس عورت کواپنی عادت کے سات دن حیض بندہونے کے بعد پاکی کے تیرھویں دن خون نظرآتاہے تویہ حیض نہیں ہے اس لئے اسے اس دن روزہ رکھنا ضروری ہے البتہ خون جاری رہنے کی صورت میں  مکمل پندرہ دن ہونے کے بعدوہ روزہ رکھناترک کردے گی۔
 ‍ﺃ‍ﻗ‍‍ﻞ‍ ‍ﻃ‍‍ﻬ‍‍ﺮ ‍ﻓ‍‍ﺎ‍ﺻ‍‍ﻞ‍ ‍ﺑ‍‍ﻴ‍‍ﻦ‍ ‍ﺣ‍‍ﻴ‍‍ﻀ‍‍ﺘ‍‍ﻴ‍‍ﻦ‍ ‍ﺧ‍‍ﻤ‍‍ﺴ‍‍ﺔ ‍ﻋ‍‍ﺸ‍‍ﺮ ‍ﻳ‍‍ﻮ‍ﻣ‍‍ﺎ ‍ﺑ‍‍ﺎ‍ﺗ‍‍ﻔ‍‍ﺎ‍ﻕ‍ ‍ﺃ‍ﺻ‍‍ﺤ‍‍ﺎ‍ﺑ‍‍ﻨ‍‍ﺎ ‍ﻟ‍‍ﺄ‍ﻧ‍‍ﻪ‍ ‍ﺃ‍ﻗ‍‍ﻞ‍ ‍ﻣ‍‍ﺎ ‍ﺛ‍‍ﺒ‍‍ﺖ‍ ‍ﻭ‍ﺟ‍‍ﻮ‍ﺩ‍ﻩ‍ ‍ﻭ‍ﻟ‍‍ﺎ ‍ﺣ‍‍ﺪ ‍ﻟ‍‍ﺎ ‍ﻛ‍‍ﺜ‍‍ﺮ‍ﻩ‍ ‍ﺑ‍‍ﺎ‍ﻟ‍‍ﺈ‍ﺟ‍‍ﻤ‍‍ﺎ‍ﻉ‍
المجموع ٢/٣٧٦
🖌 *اجابہ*: مفتی تمیم مدراسی
------------------------------------
*منجانب بحث و نظر فقہ شافعی کوکن*   
 زیر نگرانی 
*
مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی* 
          مرتب 
*
مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
ٹیلیگرام پر جائن کریں
https://t.me/bahsonazarfiqhashafaikokan


Comments

Popular posts from this blog

اگر کسی شخص کی فجر سے پہلے کی سنت نماز چھوٹ جائے تو اسے کب پڑھنا چاہئے؟

حج یا عمرہ کرنے والا صرف بال کٹائے حلق نہ کرائے تو کیا رکن ادا ہوگا؟

لیکوریا سے خارج ہونے والے سفید مادہ سے وضو ٹوٹتا ہے کیا؟