کیا بہن کے پیر میں درد ہونے کے سبب بھائی اپنے بہن کے پیر دبا سکتا ہے؟
*(سوال نمبر:105)*
سوال :
کیا بہن کے پیر میں درد ہونے کے سبب بھائی اپنے بہن کے پیر
دبا سکتا ہے؟
*جواب*
صلہ رحمی کی احادیث میں بہت
فضیلت آئی ہے اور صلہ رحمی کی شریعت نے کوئی تعیین نہیں کی ہے جس رشتہ دار کو کوئی تکلیف ہو اس کو دور کرنے کے لئے جو طریقہ اختیار کیا جائے گا وہ اس کے حق میں صلہ رحمی
ہوگا لہٰذا اگر کسی رشتہ دار کو مال یا کسی اور مدد کی ضرورت ہو اور کوئی دوسرا رشتہ
دار اس کو پورا کرے تو یہ بھی صلہ رحمی ہے لہٰذا اس اعتبار سے اگر کوئی حقیقی بھائی اپنی
حقیقی بہن کے پیروں میں درد کی بناء پر اس کے ساتھ صلہ رحمی کا برتاؤ کرے اور
اس کی خدمت کرے اور اس کے پیر دبائے تو یہ اس کے حق میں مستحب ہوگا لیکن یہ استحباب
اس وقت ہے جب کہ اس خدمت کی شدید ضرورت ہواور کوئی عورت یا اس کی اولاد یا والدہ اس کی
خدمت کے لئے میسرنہ ہو۔اسی طرح کسی بھی قسم
کے فتنہ کا اندیشہ نہ ہو۔لیکن اگرفتنہ کاہلکاسابھی امکان ہے تویہ عمل حرام ہوگا۔البتہ
فتنہ کاامکان نہ ہونے کی صورت میں بھی بہتریہی ہے کہ کوئی عورت ہی سے پیردبانے کی خدمت
لی جائے۔
قال
تعالى: {ولا يبدين زينتهن إلا لبعولتهن أو آبائهن أو بني أخواتهن أو نسائهن}(1)
چنانچہ علامہ دمیری رحمہ للہ فرماتے ہیں:
واماصلۃ الرحم۔ فمندوب إليها،
وهي: فعلك مع قريبك ما تعد به واصلاً غير مناقر ومقاطع له، ويحصل ذلك تارۃ بالمال،
وتارة بقضاء حاجته أو خدمته أو زيارته، وفي حق الغائب بنحو هذا وبالمكاتبة وإرسال السلام
إليه ونحو ذلك مما يسمى في العرف صلة.(2)
علامہ مصطفی دیب البغا رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
وحدود عورة المرأة: عند النساء
المسلمات ما بين سرتها وركبتها. أما عند النساء الكافرات، فما عدا الذي يظهر منها لضرورة
القيام إلى عمل ما كخدمة البيت ونحوه.وأما عند الرجال المحارم لها: فما بين السرة والركبة،
أي فيجوز لها أن تبدي سائر أطراف جسمها أمامهم بشرط أمن الفتنة وإلا فلا يجوز ذلك أيضاً.(3)
(1)سورة النور:31
(2)النجم الوھاج:5/571
(3)الفقہ المنھجی:1/125
🖌 *اجابہ*: مفتی فریدہرنیکر صاحب ۔ مفتی خالدخان
------------------------------------
*منجانب بحث و نظر فقہ شافعی کوکن*
زیر نگرانی
*مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی*
*مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی*
مرتب
*مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
*مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
ٹیلیگرام پر جائن کریں
https://t.me/bahsonazarfiqhashafaikokan
Comments
Post a Comment