بغیر قصد مس مرأۃ سے وضو کا مسئلہ
*(سوال نمبر:116)*
السؤال:
آج
کل بڑی دکانوں اورشوروم ( showroom)وغیرہ میں سامان کی قیمت لینے کے لئے عورتیں ہوتی ہیں، لہذا پیسہ کے
لین دین میں بغیرقصدمس ہو جاتا ہے،تواس صورت میں وضو ٹوٹ جائے گایانہیں؟
*جواب*
مسلک شافعی کے اصح قول کے
مطابق مس مرأۃ(اجنبیہ عورت کو چھونا)ناقض وضؤ ہے خواہ قصداً ہو یا سہواً شہوت کے ساتھ
ہو یا بغیر شہوت کےہر حال میں مرد وعورت کا وضؤ ٹوٹ جائے گا البتہ فقہائے شوافع میں
سے بعض حضرات نے نقض وضؤ میں شہوت کی قید لگائ ہے اور امام نووی رحمہ اللہ نے ان اقوال
کو ضعیف کا درجہ دیا ہے اور ضعیف اقوال پر عند الضرورۃ عمل کیا جاتا ہے لہذا بازار
میں دوران خرید وفروخت پائے جانے والا مس ضرورت میں شامل نہیں ہوگا اس لئے کہ یہ عورتوں
کا میدان نہیں بلکہ گھریلوں مصروفیات اور تربیت اولاد اس کا اصل میدان ہے.لہذا ہر صورت
میں وضؤ کرنا ضروری ہوجائے گا.البتہ وضؤ بچانے کے لئے بعض تدابیر اختیار کرنا مناسب
معلوم ہوتا ہے۔
1)کیش لیس پیمنٹ (کارڈ کے ذریعے)کا طریقہ کار
اپنائے.
2)باقی ماندہ رقم ہاتھ میں لینے کی بجائے کیشر
ٹیبل سے اٹھائے.
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
(قَالَ الشَّافِعِيُّ) وَبَلَغَنَا عَنْ ابْنِ
مَسْعُودٍ قَرِيبٌ مِنْ مَعْنَى قَوْلِ ابْنِ عُمَرَ، وَإِذَا أَفْضَى الرَّجُلُ بِيَدِهِ
إلَى امْرَأَتِهِ أَوْ بِبَعْضِ جَسَدِهِ إلَى بَعْضِ جَسَدِهَا لَا حَائِلَ بَيْنَهُ
وَبَيْنَهَا بِشَهْوَةٍ أَوْ بِغَيْرِ شَهْوَةٍ وَجَبَ عَلَيْهِ الْوُضُوءُ وَوَجَبَ
عَلَيْهَا،(1)
امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
إذَا الْتَقَتْ بَشَرَتَا رَجُلٍ وَامْرَأَةٍ أَجْنَبِيَّةٍ
تُشْتَهَى انْتَقَضَ وُضُوءُ اللَّامِسِ مِنْهُمَا سَوَاءٌ كَانَ اللَّامِسُ الرَّجُلَ
أَوْ الْمَرْأَةَ وَسَوَاءٌ كَانَ اللَّمْسُ بِشَهْوَةٍ أَمْ لَا تَعْقُبُهُ لَذَّةٌ
أَمْ لَا وَسَوَاءٌ قَصَدَ ذَلِكَ أَمْ حَصَلَ سَهْوًا أَوْ اتِّفَاقًا وَسَوَاءٌ اسْتَدَامَ
اللَّمْسُ أَمْ فَارَقَ بِمُجَرَّدِ الْتِقَاءِ الْبَشَرَتَيْنِ وَسَوَاءٌ لَمَسَ بِعُضْوٍ
مِنْ أَعْضَاءِ الطَّهَارَةِ أَمْ بِغَيْرِهِ وَسَوَاءٌ كَانَ الْمَلْمُوسُ أَوْ الْمَلْمُوسُ
بِهِ صَحِيحًا أَوْ أَشَلَّ زَائِدًا أَمْ أَصْلِيًّا فَكُلُّ ذَلِكَ يَنْقُضُ الْوُضُوءَ
عِنْدَنَا......
وَوَجْهٌ حَكَاهُ الرَّافِعِيُّ عَنْ الْحَنَّاطِيِّ أَنَّ
ابْنَ سُرَيْجٍ كَانَ يَعْتَبِرُ الشَّهْوَةَ فِي الِانْتِقَاضِ قَالَ الْحَنَّاطِيُّ
وَحَكَى هَذَا عَنْ نَصِّ الشَّافِعِيِّ وَوَجْهٌ حَكَاهُ الْفُورَانِيُّ وَإِمَامُ
الْحَرَمَيْنِ وَآخَرُونَ أَنَّ اللَّمْسَ إنَّمَا يَنْقُضُ إذَا وَقَعَ قَصْدًا وَهَذِهِ
الْأَوْجُهُ شَاذَّةٌ ضَعِيفَةٌ(2)
امام محلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
یجوز تقلید ملتزم مذھب الشافعی غیر مذھبہ او المرجوح فیہ للضرورۃ
ای المشقۃ التی لا تحتمل عادۃ اما عند عدمہا فیحرم.(3)
1)کتاب الام:29,30/1
2)المجموع:26/2
(3)کنزالراغبین:527/1
(4)روضۃ الطالبین:75/1
(5)العزیز شرح الوجیز:163/1
*اجابہ*:مولوی سعودمجاورندوی
------------------------------------
*منجانب بحث و نظر فقہ شافعی کوکن*
زیر نگرانی
*مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی*
*مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی*
مرتب
*مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
*مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
ٹیلیگرام پر جائن کریں
https://t.me/bahsonazarfiqhashafaikokan
Comments
Post a Comment