کسی عورت کی اگلی شرم گاہ سے ریح خارج ہو تو کیا یہ فعل ناقض وضو ہے
*(سوال نمبر:107)*
کسی عورت کی اگلی شرم گاہ سے ریح خارج ہو تو کیا یہ فعل
ناقض وضو ہے؟ نیز جس عورت کو اس طرح کا مرض لاحق ہو تو اگلی شرم گاہ سے ریح کا اخراج عامة سجدہ کی حالت میں ہوتا ہے ، یاد رہے یہ سلسلة البول والے مسئلہ کی طرح مسلسل نہیں
ہوتا البتہ نماز کی کیفیت میں خصوصا ہوتا ہے، اور نماز میں حرج ہوتا ہے بار بار وضو
کرنا پڑتا ہے، ایسی عورت کے نماز کا کیا حکم ہے؟
*جواب*
حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ
سے مروی ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وضوء واجب نہیں ہوتا مگر آواز
اور بوکی وجہ سے (1)اس حدیث سے فقھاء استدلال کرتے ہیں کہ ریح نکلنے سے وضوء ٹوٹ جاتا
ہے اگر ریح کا نکلنا مسلسل ہو جائے اور کنٹرول سے باہر ہوجائے تو اس کا حکم مستحاضہ
کے حکم کی طرح ہے تو اس وقت ہر نماز کے لئے وضوء ضروری ہوگا لیکن مذکورہ مسئلہ میں اس عورت کو بیٹھنے کی حالت میں کنٹرول ہوتا ہے نہ
کہ قیام کی حالت میں تو اس عورت کو ضروری ہے کہ وہ بیٹھکر نماز پڑھے تاکہ طھارت باقی
رہے اور اس پر اعادہ بھی واجب نہیں
قال الامام النووي رح:
فالخارج من
قبل الرجل او المرأة او دبرهما ينقض الوضوء....،اما من استطلق سبيله فدام خروج البول
و الغايط والريح منه فحكمه حكم المستحاضة (2)
قال الامام الرملي
رح:
ولو استمسك
السلس بالقعود دون القيام صلي قاعدا وجوبا ..حفظا لطهارته ولا إعادة عليه .(3)
قال الامام ابن حجر الهيتمي رح: احدها: خروج شيئ من فبله اي
المتوضئ الحي الواضح ولو ريحا من ذكره او قبلها.(4)
(1)سنن الترمذي:٧٤ قال الترمذي رح هذا حديث حسن
صحيح .
(2)المجموع،باب الاحداث..،٥،٥٠٠٠/٢
(3)نهاية المحتاج،باب الحيض٣٣٩/١
(4)تحفة المحتاج،باب اسباب الحدث،٥١/١٥
★اسني
المطالب، باب الاحداث،١٢٤/١
🖌 *اجابہ*: مولوی رفاعی مدراسی۔مولوی زیدمنی پوری
------------------------------------
*منجانب بحث و نظر فقہ شافعی کوکن*
زیر نگرانی
*مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی*
*مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی*
مرتب
*مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
*مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
ٹیلیگرام پر جائن کریں
https://t.me/bahsonazarfiqhashafaikokan
Comments
Post a Comment