کوئی امانت رکھ کر چلا جائے اور پھر واپس نہ ہو تو اس امانت کے مال کا حکم
*(سوال نمبر:115)*
السؤال:
اگر کوئی شخص کسی کے پاس امانت
رکھ کر چلا جائے اور کئی سال تک واپس نہ آئے یہاں تک کہ اس کا آنا اب مشکل ہوجائے تو
امانت کا کیا حکم ہوگا؟
*جواب*
اگر کوئ شخص کسی کے پاس امانت
رکھ کر غائب ہوجائے اور بہت سالوں تک نہ لوٹے اور اس کے لوٹنے کا امکان بھی نہ ہو اور تلاش بسیار کے بعد
پتہ بھی نہ لگ پائے تو اس شخص کی امانت کو حاکم کے صواب دید سے مصالح عامہ میں صرف کیا جائے گا اور ضرورت مند اور حاجت مند کو ترجیح دی جائے گی البتہ مسجد وغیرہ کی تعمیر میں اس کا استعمال نہیں کیا جائے گا اگر حاکم موجود نہ ہو۔اورمصالح عامہ پرخرچ کرنا ممکن نہ ہو تو وہ امانت متقی اور
مصالح عامۃ سے واقفیت رکہنے والے کےحوالے کی جائے گی.
چنانچہ علامہ خطیب شربینی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
ولو كان تحت يده وديعة لم يعرف صاحبها وأيس من معرفته بعد
البحث التام صرفها فيما يجب على الإمام الصرف فيه وهو أهم مصالح المسلمين مقدما أهل
الضرورة وشدة الحاجة لا في بناء نحو مسجد فإن جهل ما ذكر دفعه لثقة عالم بالمصالح الواجبة
التقديم والأروع الأعلم أولى.(1)
(1)مغنی المحتاج:144/4
(2)تحفۃالمحتاج:132/3
(3)عمدۃ المحتاج:194/10
(4)اعانۃ الطالبین:289/3
(5)فیض الہ المالک:54/2
*اجابہ*:مولوی سعودمجاورندوی
------------------------------------
*منجانب بحث و نظر فقہ شافعی کوکن*
زیر نگرانی
*مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی*
*مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی*
مرتب
*مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
*مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
ٹیلیگرام پر جائن کریں
https://t.me/bahsonazarfiqhashafaikokan
Comments
Post a Comment