اگر نماز میں عورت کے بال نظر آئے تو کیا حکم ہے؟
*(سوال نمبر:108)*
اگر نماز میں عورت کے بال نظر آئے تو کیا حکم ہے؟
*جواب*
اگر نماز کے اندر کسی عورت کے بال مستورنہ ہو تونمازدرست
نہیں ہوگی۔اس لئے کہ عورت کے لئے نمازمیں چہرہ اورہتیلیوں کے علاؤہ پورابدن چھپانا
ضروری ہے۔یہاں تک کہ سرکے بالوں کوبھی چھپاناشرط ہے۔البتہ بال ظاہر ہوتے ہی فوراڈھانپ
دئیے جائے تونمازباطل نہیں ہوگی۔۔
امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
أَوْ كَشَفَتْ الرِّيحُ عَوْرَتَهُ فَسَتَرَهَا فِي الْحَالِ
لَمْ تَبْطُلْ صَلَاتُهُ لِمَا ذَكَرَهُ الْمُصَنِّفُ فَإِنْ تَأَخَّرَ ذَلِكَ بَطَلَتْ
صَلَاتُهُ عَلَى الصَّحِيحِ الْجَدِيدِ(1)
اصحاب فقہ المنھجی فرماتے ہیں:
أما إن انكشفت بدون قصده: فإن أسرع فسترها فوراً، لم تبطل،
وإلا بطلت، لفقدان شرط من شروطها في جزء من أجزائها(2)
قال الشافعي رحمه الله
فَإِذَا انْكَشَفَ مِنْ الرَّجُلِ فِي صَلَاتِهِ شَيْءٌ مِمَّا
بَيْنَ سُرَّتِهِ وَرُكْبَتِهِ وَمِنْ الْمَرْأَةِ فِي صَلَاتِهَا شَيْءٌ مِنْ شَعْرِهَا
قَلَّ، أَوْ كَثُرَ وَمِنْ جَسَدِهَا سِوَى وَجْهِهَا وَكَفَّيْهَا وَمَا يَلِي الْكَفَّ
مِنْ مَوْضِعِ مِفْصَلِهَا وَلَا يَعْدُوهُ، عَلِمَا أَمْ لَمْ يَعْلَمَا أَعَادَا
الصَّلَاةَ مَعًا إلَّا أَنْ يَكُونَ تَنْكَشِفُ بِرِيحٍ، أَوْ سَقْطَةٍ، ثُمَّ يُعَادُ
مَكَانَهُ لَا لُبْثَ فِي ذَلِكَ فَإِنْ لَبِثَ بَعْدَهَا قَدْرَ مَا يُمْكِنُهُ إذَا
عَاجَلَهُ مَكَانَهُ إعَادَتُهُ أَعَادَ وَكَذَلِكَ هِيَ (3)
(1)المجموع
4/ 85
(2)الفقه المنهجي
1/ 168
(3)كتاب الام
2/ 202:201
★المهذب 1/ 309
★النجم
الوهاج 2/ 199
*اجابہ*: مفتی خالدخان۔مولوی زیدمنی پور(کنڈلور)
------------------------------------
*منجانب بحث و نظر فقہ شافعی کوکن*
زیر نگرانی
*مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی*
*مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی*
مرتب
*مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
*مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
ٹیلیگرام پر جائن کریں
https://t.me/bahsonazarfiqhashafaikokan
Comments
Post a Comment